Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 251

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَلِيٍّ -رضي اللَّه عنه- قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "نِعْمَ الرَّجُلُ الْفَقِيهُ فِي الدِّينِ إِنِ احْتِيجَ إِلَيْهِ نَفَعَ، وَإِنِ اسْتُغْنِيَ عَنْهُ أَغْنَى نَفْسَهُ". رَوَاهُ رَزِينُ.

وعن علي -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "نعم الرجل الفقيه في الدين إن احتيج إليه نفع، وإن استغني عنه أغنى نفسه". رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے وہ عالم دین بہت اچھا ہے اگر اس کی ضرورت پڑے تو نفع پہنچادے اگر اس سے بے پرواہی ہو تو اپنے کو بے نیازرکھے ۱؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نہ متکبر بنے نہ محتاج لوگوں کی ضرورت پر دل و جان سے حاضر ہوجائے اور جب لوگ اسے نہ چاہیں ان پر نہ گرے،امیر غریب کے دروازے پر بہتر،مگر غریب امیر کے دروازے پر برا۔مرقاۃ میں ہے کہ عامل باعمل کا چرچہ ملکوت میں ہوتا ہے،فرشتے اسے عظیم کہتے ہیں یعنی بڑا آدمی۔خیال رہے کہ جس عالم میں تین باتیں جمع ہوں وہ زمانہ کا سردار ہوگا علم دین کامل،قناعت اور استغناءاعمال صالحہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 251