Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 221

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَن سَخْبَرَةَ الأَزْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ كَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضٰى". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الإسْنَادِ، وَأَبُو دَاوُدَ الرَّاوِي يُضَعَّفُ.

وعن سخبرة الأزدي قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "من طلب العلم كان كفارة لما مضى". رواه الترمذي والدارمي، وقال الترمذي: هذا حديث ضعيف الإسناد، وأبو داود الراوي يضعف.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سخبرہ ازدی سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے جس نے تلاش علم کی تو یہ تلاش اس کےگزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوگی ۲؎اسے ترمذی ودارمی نے روایت کیا اورترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے ابوداؤد راوی کو ضعیف کہا گیا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎صحیح یہ ہے کہ آپ صحابی ہیں،کنیت ابو عبداللہ ہے،ازدابن غوث کی اولاد سے ہیں،آپ سے صرف ایک یہی حدیث منقول ہے۔
۲
؎طالب علم سے صغیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں،جیسے وضو،نماز،وغیرہ عبادات سے۔لہذا س کا مطلب یہ نہیں ہے کہ طالب علم جو گناہ چاہے کرے،یا مطلب یہ ہے کہاللہتعالٰی نیت خیرسے علم طلب کرنے والوں کو گناہوں سے بچنے اورگزشتہ گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی توفیق دیتا ہے۔
۳
؎یہ ابوداؤد اور ہیں سلیمان ابن اشعث سجستانی نہیں جن کی مشہور کتاب ابوداؤدشریف ہے ان کا نام نقیع ابن حارث ہے،کوفہ کے رہنے والے ہیں،ہمدان کے قاضی تھے اور نابیناتھے،حدیث میں ضعیف مانے جاتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 221