Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 277

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فَقَالَ: "ذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يَذْهَبُ الْعِلْمُ، وَنَحْنُ نَقْرَأ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا، وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُم إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ: "ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ زِيَادُ إِنْ كُنْتُ لأُرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَؤُونَ التَّوْرَاةَ وَالإِنْجِيلَ لَا يَعْمَلُونَ بِشَيْءٍ مِمَّا فِيهِمَا". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنهُ نَحوه.

وعن زياد بن لبيد قال: ذكر النبي -صلى الله عليه وسلم - شيئا فقال: "ذاك عند أوان ذهاب العلم"، قلت: يا رسول الله! كيف يذهب العلم، ونحن نقرأ القرآن ونقرئه أبناءنا، ويقرئه أبناؤنا أبناءهم إلى يوم القيامة؟ فقال: "ثكلتك أمك زياد إن كنت لأراك من أفقه رجل بالمدينة، أوليس هذه اليهود والنصارى يقرؤون التوراة والإنجيل لا يعملون بشيء مما فيهما". رواه أحمد وابن ماجه، وروى الترمذي عنه نحوه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے زیاد ابن لبید سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ یہ علم جاتے رہنے کے وقت ہوگا ۲؎میں نے عرض کیا یارسول اللہ علم کیسے جاسکتا ہے؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے رہیں گے اور تاقیامت ہماری اولاد اپنی اولاد کو۳؎تو فرمایا اے زیاد تمہیں تمہاری ماں روئے ہم تو تمہیں مدینہ کے بڑے سمجھ داروں میں سے جانتے تھے ۴؎کیا یہ یہود اور نصاریٰ توریت و انجیل نہیں پڑھتے لیکن ان میں جو ہے اس پر بالکل عمل نہیں کرتے ۵؎روایت کیا احمد ابن ماجہ نے اور ترمذی نے انہیں سے اس طرح روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے،انصاری ہیں،زُرَقِیہیں۔حضور کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے،ہجرت سے پہلے حضور کے پاس مکہ معظمہ پہنچ گئے تھے۔پھر مدینہ منورہ ہجرت کرکے آئے اس لیئے آپ کو تمام صحابہ مہاجر انصار کہا کرتے تھے،حضور نے آپ کو حضرموت کا حاکم مقرر فرمایا،امیر معاویہ کے شروع زمانۂ امارت میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی یہ نہایت ہولناک واقعات جب ہوں گے جب دنیا سے علم دین اٹھ گیا ہوگا۔
۳
؎یہاں قرآن پڑھنے پڑھانے سے مراد پورا علم سیکھنا سکھانا ہے یعنی جب تعلیم و تعلم کا مشغلہ قائم رہے گا تو علم کیونکر اٹھ جائے گا۔ مصدر کے ہوتے حاصل مصدر کہاں جاسکتا ہے۔
۴
؎اس سےمعلوم ہوا کہ استاد اپنے شاگرد کو غیر مناسب سوال کرنے پر عتاب کرسکتا ہے یہ الفاظ کہ ہم تمہیں ایسا جانتے تھے اظہار عتاب کے لیئے ہوتے ہیں نہ کہ اپنی بے علمی کے اظہار کے لیئے جیسا کہ بعض ناسمجھ لوگوں نے اس حدیث سے حضور کے علم کا انکار کیا۔
۵
؎یعنی علم سے ہماری مراد نتیجہ علم ہے۔یعنی علم ہوگا عمل نہ ہوگا۔خیال رہے کہ عیسائیوں کے پادری اور جوگی رشوتیں لیکر عوام کو اعمال سے معافی دے دیتے ہیں اور ان کے گناہ بخشتے رہتے ہیں توخودکیا نیکی کرتے ہوں گے،ہفتہ میں ایک دن گرجے میں گا بجا لینا ان کے عمل ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 277