Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 236

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "الْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "المراء في القرآن كفر". رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے ۱؎(احمدوابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آیات قرآنیہ کے معانی میں ایسا جھگڑا کرنا جس سے لوگ شک میں مبتلا ہوجائیں قریبًا کفر ہے،کیونکہ لوگوں کے کفر کا ذریعہ ہے یا متشابہات کی تاویلوں میں جھگڑنا کفرانِ نعمت ہے،یا قرآنی آیات اور آیات کی متواتر قرأتوں میں یہ جھگڑا کرنا کہ یہ کلام الٰہی ہیں یا نہیں کفر ہے۔یا قرآن کو اپنی رائے کے مطابق بنانے میں جھگڑنا کہ ہر ایک اپنی رائے اور ایجاد کردہ مذہب کے مطابق اس کا ترجمہ یاتفسیرکرے یہ کفر ہے۔بہرحال حدیث بالکل واضح ہے اور اسے مفسرین اور مجتہدین کے اختلاف سے کوئی تعلق نہیں وہ جھگڑا نہیں بلکہ تحقیق ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 236