Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 235

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ فِي الْقُرْآنِ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فقد أَخْطَأَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.

وعن جندب قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "من قال في القرآن برأيه فأصاب فقد أخطأ". رواه الترمذي وأبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جندب سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو قرآن میں اپنی رائے سے کہے پھرٹھیک بھی کہہ دے تب بھی خطا کر گیا۲؎(ترمذی وابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام جندب ابن عبداللہابن سفیان علفیبَجَلِیہے۔علف قبیلہ بجل کا ایک بطن ہے،مشہورصحابی ہیں۔عبداللہابن زبیر کی وفات کے چار سال بعدوفات ہوئی۔
۲
؎یعنی اگر عالم قرآن کی رائے سے تفسیرکرے،یا جاہل رائے سے تاویل کرے اور اتفاقًا وہ تفسیر و تاویل درست ہو تب بھی وہ دونوں گنہگار ہوں گے،کیونکہ انہوں نے ناجائز کام کیا اور ممکن ہے کہ آیندہ اس پر دلیر ہوکر غلطی بھی کرجائیں۔علماء فرماتے ہیں کہ تفسیر قرآن کے لئے عالم کو پندرہ علموں میں پوری مہارت چاہیئے تب وہ قرآن کو ہاتھ لگائے،ایسا عالم اگر تاویل قرآن میں غلطی بھی کرے تب بھی ثواب پائے گا،مجتہد کی خطا پر ایک ثواب ہے اور صحت پر دو،جیسا کہ آیندہ احادیث میں آئے گا۔تفسیر و تاویل کا فرق ہم اوپرعرض کرچکے ہیں۔تفسیر میں یقین ہوتا ہے جونقل پرموقوف ہے،تاویل میں ظن غالب۔خیال رہے کہ قرآن کی وہ تاویل جو نقل کے خلاف ہو حرام ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 235