Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 260

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "مَنْهُومَانِ لَا يَشْبَعَانِ مَنْهُومٌ فِي الْعِلْمِ لَا يَشْبَعُ مِنْهُ، وَمَنْهُومٌ فِي الدُّنْيَا لَا يَشْبَعُ مِنْهَا". رَوَى الْبَيْهَقِيُّ الأَحَادِيثَ الثَّلَاثَةَ فِي "شُعَبِ الإِيْمَانِ" وَقَالَ: قَالَ الإِمَامُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثِ أَبِي الدَّرْدَاءِ: هَذَا مَتْنٌ مَشْهُورٌ فِيمَا بَيْنَ النَّاسِ وَلَيْسَ لَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.

وعنه أن النبي -صلى الله عليه وسلم - قال: "منهومان لا يشبعان منهوم في العلم لا يشبع منه، ومنهوم في الدنيا لا يشبع منها". روى البيهقي الأحاديث الثلاثة في "شعب الإيمان" وقال: قال الإمام أحمد في حديث أبي الدرداء: هذا متن مشهور فيما بين الناس وليس له إسناد صحيح.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو حریص سیرنہیں ہوتے ایک علم کا حریص جو اس سے سیر نہیں ہوتا اور دنیا کا حریص اس سے سیرنہیں ہوتا ۱؎یہ تینوں حدیثیں بیہقی نےشعب الایمانمیں روایت کیں اور فرمایا کہ امام احمد نے ابوالدرداءکی حدیث کے بارے میں فرمایا کہ لوگوں میں اس کا متن مشہور ہے لیکن اس کی اسنادصحیح نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎حرص کے معنے ہیں ہمیشہ زیادتی کی خواہش،دنیاوی حرص بری ہے دینی حرص اچھی،عالم کو علم سے کبھی سیری نہیں ہوتی یہاللہکی نعمت ہے،رب فرماتا ہے:"قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"دنیا دار دنیا سے سیرنہیں ہوتا،جیسےجَلَنْدَھْرکا بیمار پانی سے۔خیال رہے کہ یہ سب اپنے لیئے ہیں،حضور امت کے لیئے یہ ان سے لے کر سیر نہیں ہوتے حضور دے کر سیر نہیں ہوتے،رب فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ" لفظ ایک ہے معنے علیحدہ۔
۲
؎امام نووی نے اپنی چہل حدیث میں فرمایا کہ ابوالدرداء کی حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے جو ساری ضعیف ہیں مگر اسنادوں کی کثرت اور علماء کے قبول کرلینے کی وجہ سے حدیث قوی ہوگی،کیونکہ تعدد اسناد سے ضعیف حسن بن جاتی ہے۔نیز فضائل اعمال میں حدیث ضعیف مقبول ہے۔(ازمرقاۃ و اشعۃ اللمعات)
۱
؎حرص کے معنے ہیں ہمیشہ زیادتی کی خواہش،دنیاوی حرص بری ہے دینی حرص اچھی،عالم کو علم سے کبھی سیری نہیں ہوتی یہاللہکی نعمت ہے،رب فرماتا ہے:"قُلۡ رَّبِّ زِدْنِیۡ عِلْمًا"دنیا دار دنیا سے سیرنہیں ہوتا،جیسےجَلَنْدَھْرکا بیمار پانی سے۔خیال رہے کہ یہ سب اپنے لیئے ہیں،حضور امت کے لیئے یہ ان سے لے کر سیر نہیں ہوتے حضور دے کر سیر نہیں ہوتے،رب فرماتا ہے:"حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ" لفظ ایک ہے معنے علیحدہ۔
۲
؎امام نووی نے اپنی چہل حدیث میں فرمایا کہ ابوالدرداء کی حدیث بہت اسنادوں سے مروی ہے جو ساری ضعیف ہیں مگر اسنادوں کی کثرت اور علماء کے قبول کرلینے کی وجہ سے حدیث قوی ہوگی،کیونکہ تعدد اسناد سے ضعیف حسن بن جاتی ہے۔نیز فضائل اعمال میں حدیث ضعیف مقبول ہے۔(ازمرقاۃ و اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 260