Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 249

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ جَاءَهُ الْمَوْتُ وَهُوَ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِيُحْيِيَ بِهِ الإِسْلَامَ فَبَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّينَ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ". رَوَاهُ الدَّارمِيّ.

عن الحسن مرسلا قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "من جاءه الموت وهو يطلب العلم ليحيي به الإسلام فبينه وبين النبيين درجة واحدة في الجنة". رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حسن سے ۱؎مرسلًا فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جسے موت اس حال میں آئے کہ وہ اسلام زندہ کرنے کے لیے علم سیکھ رہا ہو ۲؎تو جنت میں اس کے اور نبیوں کے درمیان ایک درجہ ہوگا ۳؎(دارمی)

شرح حدیث

۱؎فن حدیث میں جب حسن مطلق بولا جائے تو اس سے خواجہ حسن بصری مراد ہوتے ہیں۔آپ کے والد کا نام ابوسعید ہے،وہ زید ابن ثابت رضی اللہ عنہ کے غلام تھے،ان کے والد یسار کو رُبیع بنت نظیر نے آزاد کیا تھا،خواجہ حسن بصری مدینہ منورہ میں عہد فاروقی میں فاروق اعظم کی شہادت سے دو سال پہلے پیدا ہوئے،حضرت عمر فاروق نے اپنے دست مبارک سے ان کی تحنیک(یعنی پہلا پہیہ)کی۔آپ کی والدہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ کی لونڈی تھیں،بارہا حضرت ام سلمہ نے ان کی والدہ کی غیر موجودگی میں ان کو اپنا شیر مبارک پلایا ہے،اسی کی برکت سے آپ اتنے بڑے عالم اور امام وقت ہوئے،شہادت عثمان کے بعد بصرے آگئے تھے،آپ نے بہت صحابہ سے ملاقات کی ہے،اپنے وقت کے امام بڑے متقی پرہیزگار تھے۔رجب ۱۱۰ھمیں مقام بصرہ میں آپ کا وصال ہوا وہیں مدفون ہیں،آپ کی قبر شریف زیارت گاہ عوام و خواص ہے۔ (اکمال)فقیر نے قبر انور کی زیارت کی ہے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ طالب علم ہے جو عالم دین نہ بن سکا پہلے ہی موت آگئی جب اس کی یہ فضیلت ہے تو علمائے دین کا کیا پوچھنا یا اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو عالم دین ہیں مگر علم سے سیر نہیں ہوتے ہمیشہ مطالعۂ کتب صحبتِ علماء سے اپنا علم بڑھاتے رہتے ہیں اور ہمیشہ اپنے کو طالب علم سمجھتے رہتے ہیں اور یہ سب کچھ خدمت دین کی نیت سے کرتے ہیں۔
۳
؎یعنی انہیں انبیاء سے بہت قرب نصیب ہوگا کہ اعلٰی علّیین میں وہ حضرات ان کے نیچے یہ علماءکیونکہ یہ دنیا میں وارثین انبیاء تھے۔خیال رہے کہ بعض مؤمن جنت میں انبیاء کے ساتھ رہیں گے۔رب فرماتا ہے:"فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ"الایہمگر یہ ہمراہی ایسی ہوگی جیسے بادشاہ کے خدام خاص اس کے ساتھ کوٹھی میں رہتے ہیں کہ یہ بادشاہ نہیں بن جاتے ایسے ہی یہ حضرات نبی کے درجہ پر نہ ہوں گے بلکہ خادم خاص لہذا حدیث اور آیات قرآنی بالکل واضح ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 249