Main Icon

باب : علم کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 208

علم کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: "كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا تَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍأَعَادَهَا ثَلَاثًا حَتّٰى تُفْهَمَ عَنْهُ، وَإِذَا أَتٰى عَلٰى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ ثَلَاثًا". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أنس قال: "كان النبي -صلى الله عليه وسلم - إذا تكلم بكلمةأعادها ثلاثا حتى تفهم عنه، وإذا أتى على قوم فسلم عليهم سلم عليهم ثلاثا". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لفظ بولتے تو اسے تین بار دہراتے تاکہ سمجھ لیا جائے ۱∞؎اور جب کسی قوم پر تشریف لاتے اور انہیں سلام فرماتے تو تین بار سلام کرتے ۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎لفظ سے مراد پوری بات ہے،یعنی مسائل بیان کرتے وقت ایک ایک مسئلہ تین تین بار فرماتے تاکہ لوگوں کے ذہن میں اتر جائے ہر کلام مراد نہیں۔اسی لیئے صاحب مشکوٰۃ اس حدیث کو"کتاب العلم"میں لائے۔
۲
؎ایک سلام اجازت حاصل کرنے کا،دوسرا ملاقات کا،تیسرا رخصت کا،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ حضور بوقت ملاقات ایک سلام کرتے تھےکیونکہ وہاں صرف ملاقات کا سلام مراد ہے۔اس سےمعلوم ہوا کہ گھر میں داخلے کی اجازت کے لئے شور نہ مچائے،بہت دروازہ نہ پیٹے،بلکہ صرف یہ کہے السلام علیکم آجاؤں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ آنے اور جانے والا سلام کرے اگرچہ بڑا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 208