Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1928

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةُ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ: "أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللّٰهِ الْمَزِيدُ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن أبي أمامة قال: قال أبو ذر: يا نبي الله! أرأيت الصدقة ماذا هي؟ قال: "أضعاف مضاعفة، وعند الله المزيد". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں عرض کیا ابوذر نے یا نبیفرمایئے تو صدقہ کا درجہ کیا ہے فرمایا وہ چند درچند (دونادون)ہے اورکے ہاں زیادتی علاوہ ہے ۱؎احمد

شرح حدیث

۱∞؎اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ صدقہ کی برکتیں دنیا میں تو چند در چند ہیں اور کل قیامت میں جو زیادتیاں ہوں گی وہ ہمارے حساب سے وراء ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ"۔تجربہ بھی ہے کہ صدقہ سے مال بہت بڑھتا ہے۔دوسرے یہ کہ قیامت میں صدقہ کا ثواب دس سے سات سو گنا تک ہے اور جو زیادتیاں رب عطا فرمائے گا وہ حساب سے زیادہ ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاللہُ یُضٰعِفُ لِمَنۡ یَّشَآءُ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1928