Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1898

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ،وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: "أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرٌ؟ فَكَذٰلِكَ إِذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : "إن بكل تسبيحة صدقة، وكل تكبيرة صدقة، وكل تحميدة صدقة،وكل تهليلة صدقة، وأمر بالمعروف صدقة، ونهي عن المنكر صدقة، وفي بضع أحدكم صدقة" قالوا: يا رسول الله! أيأتي أحدنا شهوته ويكون له فيها أجر؟ قال: "أرأيتم لو وضعها في حرام أكان عليه فيه وزر؟ فكذلك إذا وضعها في الحلال كان له أجر". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر تسبیح میں صدقہ ہے اور ہر تکبیر میں صدقہ ہے اور ہر حمد میں صدقہ ہے اور ہر تہلیل میں صدقہ ہے ۱؎اور بھلائی کا حکم دینے میں صدقہ ہے اور برائی سے روکنے میں صدقہ ہے ۲؎اور ہر ایک کی حلال صحبت میں صدقہ ہے ۳؎لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم میں سے کوئی اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں اسے ثواب ملتا ہے فرمایا بتاؤ تو اگر یہ شہوت حرام میں خرچ کرتا تو اس پر گناہ ہوتا تو یوں ہی جب اسے حلال میں خرچ کرے گا تو اسے ثواب ملے گا ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان عالی شان سے معلوم ہوا کہ جو کوئیسُبْحَانَ اللہیاالله اَکْبَریااَلْحَمْدُ لِلّٰهِیالَا اِلٰہَ اِلَّا اللهکسی طرح بھی کہے صدقہ نفلی کا ثواب پائے گا خواہ ذکر اللہ کی نیت سے کہے یا کسی حاجت کی لیے بطور وظیفہ یہ الفاظ پڑھے یا عجیب بات سن کرسبحان اللهوغیرہ کہے یا خوشخبری پاکراَلْحَمْدُ لِلّٰهِپڑھے۔بہرحال ثواب ملے گا کیونکہ اللہ کا نام لینا بہرحال عبادت ہے،اگر کوئی شخص ٹھنڈک کے لیے اعضائے وضو دھوئے تب بھی وضو ہوجائے گا کہ اس سے نماز جائز ہوگی، اللہ کا نام زبان کا وضو ہے۔شعر
چوں بیاید نام پاکش در وہاں نے پلیدی ماندونے آں وہاں
۲
؎یعنی ہرتبلیغ میں خیرات کا ثواب ہے بلکہ اس کا ثواب پہلے ثوابوں سے زیادہ کہ اس میں ذکر اللہ بھی ہے اور لوگوں کو فیض پہنچانا بھی۔قلمی تبلیغ صدقہ جاریہ ہے کہ جب تک لوگ اس کی کتاب سے دینی فائدہ اٹھائیں گے تب تک اسے ثواب ملتا رہے گا،یہ ایک کلمہ بہت جامع ہے۔
۳
؎بضعکے لغوی معنے ہیں ٹکڑا مگر اصطلاح میں شرمگاہ کو کہتے ہیں،یہاں مراد صحبت حلال ہے۔یہاںفیارشاد فرماکر اس جانب اشارہ فرمایا گیا کہ صحبت بذات خود ثواب نہیں بلکہ چونکہ اس کے ضمن میں زوجین کی عفت حق زوجیت کی ادا نیک اولاد کی طلب ہے اور یہ ساری چیزیں عبادت ہیں اس لیے صحبت عبادات پر شامل ہے۔اس سید الفصحاء صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت دیکھو کہ پہلی چیزوں میںبارشاد ہوا تھا اور یہاںفیتاکہ پتہ لگے کہ وہ چیزیں بذات خود عبادت تھیں اور یہ صحبت عبادات پرمشتمل ہے۔ (لمعات)مرقات نے یہاں فرمایا ظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال صحبت مطلقًا صدقہ ہے خواہ ان چیزوں کی نیت سے ہو یا نہ ہو۔
۴
؎یعنی بذات خود صحبت ثواب نہیں بلکہ شہوت کو حلال میں خرچ کرنا ثواب ہے جیسے عید کے دن یا رمضان کی سحریوں میں کھانا پینا بذات خود ثواب نہیں بلکہ ان وقتوں میں کھانا عبادت ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جب ہواء ھدی سے مل جائے تو زہد بن جاتی ہے اسی جانب قرآن کریم اشارہ فرمارہا ہے:"وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَوٰىہُ بِغَیۡرِ ہُدًی مِّنَ اللہِسبحان الله !ہواء ھدٰی سے مل کر ایسی ہوتی ہے جیسے مکھن شہد سے مل کر۔(از مرقات)لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بغیر نیت ثواب کیسا کہ نیت کی شرط عبادت محضہ میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1898