Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1909

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ، وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السَّوْءِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "إن الصدقة لتطفئ غضب الرب، وتدفع ميتة السوء". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ صدقہ رب تعالٰی کے غضب کو بجھاتا ہے ۱؎اور بری موت کو دفع کرتا ہے ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خیرات کرنے والے سخی کی زندگی بھی اچھی ہوتی ہے کہ اولًا اس پر دنیوی مصیبتیں آتی نہیں اور اگر امتحانًا آ بھی جائیں تو رب تعالٰی کی طرف سے اسے سکون قلبی نصیب ہوتا ہے جس سے وہ صبر کرکے ثواب کمالیتا ہے۔غرضکہ اس کے لیے مصیبت معصیت لے کر نہیں آتی مغفرت لے کر آتی ہے،معصیت والی مصیبت خدا تعالٰی کا غضب ہے اور مغفرت والی مصیبت اللہ کی رحمت لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ سخیوں پر مصیبتیں آجاتی ہیں عثمان غنی جیسے سخی بڑی بے دردی سے شہید کئے گئے۔
۲
؎مَیْتَۃٌمَوْتٌسے بنا بیان نوعیت کے لیے اسے بروزنفعلۃلائے تو میم کے کسرہ کی وجہ واؤ سے بدل گیا،بری موت سے مراد خرابی خاتمہ ہے یا غفلت کی اچانک موت یا موت کے وقت ایسی علامت کا ظہور ہے جو بعد موت بدنامی کا باعث ہو اور ایسی سخت بیماری ہے جو میت کے دل میں گھبراہٹ پیدا کرکے ذکر اللہ سے غافل کردے،غرضکہ سخی بندہ ان تمام برائیوں سے محفوظ رہے گا، میرے پاک نبی سچے،ان کا رب سچا، اللہ تعالٰی ان کے طفیل ہم سب کو سخاوت کی توفیق دے اور یہ نعمتیں عطا فرمائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1909