Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1911

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيْكَ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ فِي أَرْضِ الضَّلَالِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَنَصْرُكَ الرَّجُلَ الرَّدِيءَ الْبَصَرِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْحَجَرَ وَالشَّوْكَ وَالْعَظْمَ عَن الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ، وَإِفْرَاغُكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن أبي ذر قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : "تبسمك في وجه أخيك صدقة، وأمرك بالمعروف صدقة، ونهيك عن المنكر صدقة، وإرشادك الرجل في أرض الضلال لك صدقة، ونصرك الرجل الرديء البصر لك صدقة، وإماطتك الحجر والشوك والعظم عن الطريق لك صدقة، وإفراغك من دلوك في دلو أخيك لك صدقة". رواه الترمذي، وقال: هذا حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرا اپنے بھائی کے سامنے مسکرا دینا صدقہ ہے ۱؎اور بھلائی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روک دینا صدقہ ہے اور تیرا کسی کو بہک جانے والی زمین میں راہ دکھادینا تیرے لیے صدقہ ہے ۲؎اور تیرا کسی کمزور نگاہ والے شخص کی مددکردینا تیرے لیے صدقہ ہے ۳؎اور تیرا راستہ سے پتھر کانٹا ہڈی ہٹا دینا تیرے لیے ۴؎صدقہ ہے اور تیرا اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دیناتیرے لیے صدقہ ہے ۵؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎خوشی کا مسکرانا جس سے سامنے والا سمجھے کہ میرے آنے سے اسے خوشی ہوئی اس سے وہ بھی خوش ہو جائے،تمسخر کا مسکرانا مراد نہیں جس سے آنے والے کو تکلیف ہو کہ یہ تو گناہ ہے۔
۲
؎سبحان الله !کیا رب تعالٰی کی مہربانیاں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس امت کو ملیں وہ معمولی کام جن میں نہ خرچ ہو نہ تکلیف ثواب کا باعث بن گئے،کسی کو راستہ بتادینا یا مسئلہ سمجھا دینا بھی ثواب کا باعث ہوگیا۔
۳
؎یا اس طرح کہ اس کی انگلی پکڑ کر جہاں جانا چاہتا ہے وہاں پہنچا دے یا اس طرح کہ اس کا کام کاج کردے سب میں ثواب ہے کہ اندھوں اور کمزور نظر والوں کی خدمت نعمتِ آنکھ کا شکریہ ہے،ہر نعمت کا شکر جداگانہ ہے اور شکر پر زیادتی نعمت کا وعدہ ہے"لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ
۴
؎کہ اس سے لوگ تکلیف سے بچیں گے اورتمہیں ثواب ملے گا۔معلوم ہوا کہ جیسے مسلمان کو نفع پہنچانا ثواب ہے ایسے ہی انہیں تکلیف سے بچانا بھی ثواب ہے،کسی بھلے آدمی کو بدمعاش کی شر سے بچالینا ثواب ہے،اگر کوئی شریف النفس آدمی بے خبری میں خبیث النفس سے رشتہ کرنا چاہتا ہو اس سے بچالینا بھی ثواب ہے۔
۵
؎جب اپنے ڈول سے دوسرے کے ڈول میں پانی ڈال دینا ثواب ہوا تو جس کے پاس ڈول یا رسی ہی نہ ہو اسے پانی دینا تو بہت ہی ثواب ہوگا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1911