Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1890

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَاب الْجنَّة،وللجنة أَبْوَابٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجهَاد دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجهَادِ، وَمَنْ كَانَ مَنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ،فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: "نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من أنفق زوجين من شيء من الأشياء في سبيل الله دعي من أبواب الجنة،وللجنة أبواب، فمن كان من أهل الصلاة دعي من باب الصلاة، ومن كان من أهل الجهاد دعي من باب الجهاد، ومن كان من أهل الصدقة دعي من باب الصدقة، ومن كان من أهل الصيام دعي من باب الريان". فقال أبو بكر: ما على من دعي من تلك الأبواب من ضرورة،فهل يدعى أحد من تلك الأبواب كلها؟ قال: "نعم، وأرجو أن تكون منهم". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو ﷲ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خیرات کرے ۱؎تو جنت کے دروازں سے بلایا جائے گا ۲؎جنت کے بہت دروازے ہیں تو جو نماز والوں سے ہوگا وہ نماز کے دروازے سے پکاراجائے گا اور جو جہاد والوں سے ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ والوں سے ہوگا وہ دروازۂ ریان سے بلایا جائے گا ۳؎تب حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ اس کی ضرورت تو نہیں کہ کوئی تمام دروازوں سے بلایا جائے ۴؎مگر کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا حضور نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو ۵؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایک جنس کی دو چیزیں جیسے دو پیسے دو روپے دو کپڑے دو روٹیاں وغیرہ۔لفظزوجدو کے مجموعہ کو بھی کہتے ہیں اور دو میں سے ہر ایک کو بھی جیسے خاوند بیوی کو زوجین کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہیں:"مِنۡ کُلٍّ زَوْجَیۡنِ اثْنَیۡنِ"۔اور ممکن ہے کہزوجینسے مراد بار بار صدقہ یا دن رات میں صدقہ یا علانیہ اور خفیہ صدقہ مراد ہو۔مرقات نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ صدقہ سے ساری نیکیاں مراد ہوں دو روزے دو رکعت نماز وغیرہ کیونکہ فقیر کے لیے نفلی نماز و روزہ ایسا ہے جیسے امیر کے لیے خیرات۔
۲
؎یعنیباب الصدقہسے یہاںاحدپوشیدہ ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صرف صدقہ کی وجہ سے جہاد وغیرہ کے دروازوں سے کیوں بلایا گیا۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ بہت زیادہ خیرات کرنے والے کو ہر دروازہ سے جانے کا حق ہو اظہار عزت کے لیے۔
۳
؎یعنی جس پر جو عبادت غالب ہوگی وہ جنت کے اسی دروازے سے جائے گا۔عبادت کے غالب ہونے سے مراد نوافل کی زیادتی ہے مثلًا جو شخص نماز فقط فرض و واجب ہی ادا کرتا ہے مگر جہاد کا بہت شوقین ہے ہمیشہ جہاد یا اس کی تیاری میں مشغول رہتا ہے تو وہ جہاد کے راستے سے جنت میں جائے گاوغيره۔ریّان رَیٌّسے بنا جس کے معنے ہیں سرسبزی،سیرانی اور شادابی،چونکہ روزہ دار دنیا میں بحالت روزہ خشک لب،تشنہ دہن رہا اس لیے اس کے واسطے ایسا دروازہ تجویز ہوا جو تشنہ لبی کا عوض ہوجائے۔
۴
؎یعنی جنت میں داخلے کے لیے ایک دروازہ سے بلایا جانا ہی کافی ہے ہر طرف سے پکار پڑنے کی ضرورت نہیں مگر اس پکار میں اس کی عزت افزائی ضرور ہے کہ ہر دروازہ کے دربان چاہیں کہ یہ جنتی ہمارے دروازے سے جائے اور ہمیں شرف خدمت نصیب ہو۔اس جملہ میںمَانافیہ ہے اورمِنْ ضَرُوْرَۃٍکیمِنْزائدہ اورضَرُوْرَۃ مَاکا اسم،اَعْلیٰ مَنْ دُعِیَالخ اس کی خبر۔
۵
؎یعنی جو شخص ساری عبادات میں اول نمبر ہوگا وہ ان سارے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ ہر طرف اس کے نام کی دھوم مچ جائے گی اور چونکہ اے صدیق تم ساری ہی نیکیوں میں طاق ہو لہذا تم بھی ان ہی میں سے ہوگے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ علم و عمل میں بعد انبیاء ساری خلق سے افضل ہیں کہ رب تعالٰی نے انہیںاَتْقٰےفرمایا یعنی بڑا ہی پرہیز گار"وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی الَّذِیۡ"اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں صدیق اکبر کو امام بنایا،امام بڑے عالم ہی کو بنایا جاتا ہے۔خیال رہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ عام نیکیوں میں سب سے بڑھ کر ہیں اور رب تعالٰی نے بعض خاص نیکیاں آپ کو ایسی عطا فرمائیں جن میں آپ کا کوئی شریک نہیں جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پر غار ثور تک لے جانا،اپنے زانو پر سلانا،اپنے کو سانپ سے کٹوانا وغیرہ۔ جب قرآن کریم کی رحل باقی لکڑیوں سے افضل ہے تو جس کا زانو قرآن کریم والے کی رحل بنے وہ تمام خلق سے افضل ہوگا۔دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص کے ہر دنیوی اخروی حال سے واقف ہیں حتی کہ جانتے ہیں کون جنت میں کہاں جائیگا اور کس دروازہ سے جائے گا،صحابہ کا یہی عقیدہ تھا ورنہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کیوں پوچھتے۔خیال رہے کہ کریموں کا امید دلانا یقین کے لیے ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ"۔الفاظ حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ایسے خوش نصیب لوگ بہت ہوں گے جن کے ناموں کی پکار جنت کے تمام دروازں پر پڑے گی،اس جماعت کے امیر صدیق اکبر ہوں گے رضی اللہ عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1890