Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1917

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ مَنَحَ مِنْحَةَ لَبَنٍ أَو وَرِقٍ، أَوْ هَدَى زُقَاقًا كَانَ لَهٗ مِثْلُ عِتْقِ رَقَبَةٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن البراء قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من منح منحة لبن أو ورق، أو هدى زقاقا كان له مثل عتق رقبة". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے جو دودھ کا جانور عاریۃً دے یا چاندی قرض دے یا کسی کو راستہ بتائے تو اسے غلام آزاد کرنے کا ثواب ہے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کسی کو دودھ کا جانور کچھ روز کے لیے عاریۃً دینا کہ وہ اس کا دودھ پی لے یا کسی حاجت مند کو کچھ روپیہ قرض دینا،يانابینا یا ناواقف کو راستہ بتادینے کا ثواب غلام آزاد کرنے کے برابر ہے جب قرض دینے کا یہ ثواب ہوا تو خیرات دینے کا کتنا ہوگا خود سوچ لو اس لیے یہ حدیث صدقات کے باب میں لائے۔علمائے کرام فرماتے ہیں کہ کبھی قرض دینا صدقہ دینے سے بڑھ جاتاہے کیونکہ صدقہ تو غیرحاجت مند بھی لے لیتا ہے مگر قرض ضرورت مند ہی لیتا ہے اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کبھی معمولی نیکی کا ثواب بڑے سے بڑے کام سے بڑھ جاتا ہے،پیاسے کو ایک گھونٹ پانی پلاکر اس کی جان بچالینے کا ثواب سینکڑوں روپیہ خیرات کرنے سے زیادہ ہے اس لیے حدیث شریف میں ہے کہ قیامت میں نیکیوں کا ثواب بقدر عمل ملے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1917