- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1922
باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1922
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللّٰهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللّٰهُ، فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللّٰهُ فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللّٰهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَمَنَعُوهُ، فتخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْيَانِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا، لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللّٰهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ، فَوَضَعُوا رُؤوسَهُمْ، فَقَامَ.يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهَزَمُوا فَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللّٰهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلَومُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ.
وعن أبي ذر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ثلاثة يحبهم الله، وثلاثة يبغضهم الله، فأما الذين يحبهم الله فرجل أتى قوما فسألهم بالله ولم يسألهم بقرابة بينه وبينهم، فمنعوه، فتخلف رجل بأعيانهم فأعطاه سرا، لا يعلم بعطيته إلا الله والذي أعطاه، وقوم ساروا ليلتهم حتى إذا كان النوم أحب إليهم مما يعدل به، فوضعوا رؤوسهم، فقام.يتملقني ويتلو آياتي، ورجل كان في سرية فلقي العدو فهزموا فأقبل بصدره حتى يقتل أو يفتح له، والثلاثة الذين يبغضهم الله: الشيخ الزاني، والفقير المختال، والغني الظلوم". رواه الترمذي والنسائي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالٰی تین شخصوں سے محبت کرتا ہے اور تین سے سخت ناراض ہے ۱؎جن سے محبت کرتا ہے ایک تو وہ شخص ہے جو کسی قوم کے پاس پہنچا ۲؎ان سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا اپنی آپس کی قرابت کی وجہ سے نہ مانگا ۳؎لوگوں نے اسے منع کردیا تو ان ہی میں سے ایک شخص پیچھے ہٹا اسے چھپ کر کچھ دے دیا جس کا عطیہ اللہ کے سواء اور اس دینے والے کے سواء کوئی نہیں جانتا ۴؎اور ایک وہ قوم جو رات بھر چلتی رہی حتی کہ جب انہیں نیند ہر ماسوا سے پیاری ہوگئی تو سر رکھ کر سوگئے تو یہ کھڑے ہوکر میری خوشامد کرنے لگا اور میری آیات تلاوت کیں ۵؎اور وہ شخص جو کسی لشکر میں تھا دشمن سے جنگ کی لوگ بھاگ پڑے تو یہ اپنا سینہ تان کر کھڑا ہوگیا حتی کہ قتل کردیا گیا یا اس کی وجہ سے فتح ہو گئی ۶؎اور وہ تین جن سے اللہ سخت ناراض ہے ایک بوڑھا زانی ۷؎اور متکبر فقیر اور ظالم غنی ۸؎(ترمذی،نسائی)
شرح حدیث
۱∞؎ان سے محبت کرنے کے معنے پہلے مذکور ہوگئے کہ خصوصی محبت مراد ہے،ناراضی سے بھی خصوصی ناراضی مراد ہے ورنہ رب تعالٰی تمام کفار اور فساق سے ناراض ہے لہذا حدیث واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
۲؎یہ پہنچنے والا اور مانگنے والا خدا کا محبوب نہیں محبوب تو وہ دینے والا ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے اس کے صدقہ کی اہمیت دکھانے کے لیے یہ پورا واقعہ بیان فرمایا۔(از لمعات)
۳؎اگرچہ قرابت دار فقیر کو دینے میں دگنا ثواب ہے مگر یہاں اس سخی کا اس اجنبی فقیر کو خیرات دینا بہت ہی کامل ہوا کیونکہ یہاں سواء رضا ئے الٰہی کے اور کوئی چیز فقیر کی ممنونیت وغیرہ ملحوظ نہ تھی لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ قرابت داروں کو خیرات دینا افضل ہے۔
۴؎اَعطَاہُمیں دو احتمال ہیں:ایک یہ کہ اس سے لینے والا فقیر مراد ہو۔دوسرے یہ کہ اس سے دینے والا سخی مراد ہو،دوسرے معنے زیادہ ظاہر ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اس سخی نے اپنا منہ چھپاکر یا اندھیرے میں اس طرح دیا کہ فقیر کو بھی پتہ نہ چلا کہ کون دے گیا،چونکہ اس شخص نے صدقہ بھی دیا،اس قوم کی مخالفت بھی کی اور فقیر کی ٹوٹی آس بھی پوری کی اس لیے یہ خدا کا زیادہ پیارا ہوا۔
۵؎عرب میں عمومًا رات میں سفر ہوتا ہے اورتھکن اتارنے کے لیے مسافر آخر رات میں آرام کرلیتے ہیں، چونکہ اس تہجد خواں نے تین بہادریاں کیں اس لیے یہ خدا تعالٰی کو زیادہ محبوب ہوا(۱)ایسی حالت میں نیند پر عبادت کو ترجیح دینا(۲)سب کو سوتا دیکھ کر بھی نہ سونا،عابدوں میں عبادت آسان ہے غافلوں میں مشکل (۳)اور تہجد کی نماز۔تملق ملقسے بنا،بمعنی دوستی و نرمی،ناجائز نرمی کا نام چاپلوسی ہے اور جائز نرمی کا نام خوشامد نیاز مندی وغیرہ،یہاں دوسرے معنے میں ہیں ۔صوفیا ء کرام فرماتے ہیں کہ یہ خوشامد اصل عرفان اور بندے و رب تعالٰی ٰکے درمیان خاص تعلق کا باعث ،یہ حال قال سے وراء ہے۔
۶؎اس طرح کہ اس اکیلے کی جرأت ہمت دیکھ کر بھاگنے والوں میں دلیری پیدا ہوئی پلٹ پڑے اور جم کر لڑے جیساکہ غزوہ حنین میں ہو ا کہ اس دن سارے غازیوں کے قدم اکھڑ گئے تھا ،سید الاشجعینصلی اللہ علیہ وسلم میدان میں جمے رہے پھر وہی صحابہ پلٹ پڑے جم کر لڑے اور میدان جیت لیا رضی اللہ تعالٰی عنہم۔
۷؎ظاہر یہ ہے کہ شیخ بمعنی بوڑھا ہے نہ کہ شادی شدہ جوان ،چونکہ بڑھاپے میں مو ت قریب نظر آتی ہے ،شہوانی قوتیں کمزور ہو جاتی ہیں ،بوڑھا بہت تکلف ہی سے صحبت کرسکتا ہے اس لیے اس کا زنا انتہائی خباثت کی دلیل ہےکہ اسے نہ موت کا خوف نہ اللہ رسول کی شرم۔
۷؎اگرچہ ہرتکبر برا ہے مگر فقیر کا تکبر زیادہ برا کہ اس کے پاس اس کے اسباب نہیں ہیں محض شیطان کے دھوکے سے اپنے کو بڑا جانتا ہے۔خیال رہے کہتکبر،استغناءاورتعففمیں بڑا فرق ہے اور مسلمانوں کو اپنے سے حقیر جانناتکبر ہے اور اپنے کو ان سے بے نیاز سمجھنا صرف اللہ رسول ہی کا محتاج جاننا بہت اعلیٰ وصف ہے اسی کواستغناءوغیرہ کہتے ہیں،اس کو اعلیٰ حضرت قدس سرہٗ نے یوں بیان فرمایاہے۔شعر
تیرے قدموں میں جو ہیں غیر کا منہ کیا دیکھیں
کون نظروں میں جچے دیکھ کے تلوا تیراعکیوں نہ وہ بے نیاز ہو تجھ سے جسے نیاز ہو۔ مرقات نے فرمایا کہ کفار اور متکبروں کے مقابلے میں تکبر کرنا عبادت ہے۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضرت بشیر ابن حارث نے امیر المؤمنین حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا عرض کیا مجھے کچھ نصیحت کیجئے،فرمایا کہ امیروں کا فقیروں پر مہربانی کرنا بہت اچھا ہے مگر فقیروں کا خدا پر توکل کرکے امیروں سے تکبر کرنا اس سے بھی اچھا۔اس فقیر متکبر میں وہ جاہل بھی داخل ہیں جو علماء کو حقیر سمجھیں کہ وہ علم کے فقیر ہیں۔
۸؎اپنے نفس پر ظالم کہ نعمتوں کا شکر نہیں کرتا اور مخلوق پر ظالم کہ انہیں بجائے نفع پہنچانے کے ستاتا ہے، چونکہ ان لوگوں کے جرم سخت ہیں لہذا اللہ تعالٰی ان سے سخت ناراض ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1922