Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1903

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ أَمْسَكَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ مِنَ الْجُوعِ، فَلَمْ تَكُنْ تُطْعِمُهَا وَلَا تُرْسِلُهَا فَتَأْكُلَ مِنْ خِشَاشِ الأَرْضِ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن ابن عمر وأبي هريرة قالا: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "عذبت امرأة في هرة أمسكتها حتى ماتت من الجوع، فلم تكن تطعمها ولا ترسلها فتأكل من خشاش الأرض". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر اور ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک عورت ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی گئی ۱؎جسے اس نے باندھے رکھا حتی کہ بھوک سے مرگئی اسے نہ تو کھانا دیتی تھی اور نہ چھوڑتی تاکہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالیتی ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس کے لیے عذاب جہنم کا حکم ہوگیا یا اس پر کوئی دنیوی عذاب نازل ہوا یا عذاب قبر میں گرفتار ہوئی ورنہ دوزخ کا عذاب تو بعد قیامت ہوگا،اسی عورت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج میں دوزخ میں جلتے دیکھا مگر وہ اس لیے نہیں کہ وہ دوزخ میں پہنچ چکی تھی بلکہ اس لیے کہ نگاہ انبیاء قیامت کے بعد ہونے والے واقعات کو بھی دیکھ لیتی ہے۔
۲
؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ پالے ہوئے جانور کا بھی حق ہے کہ اسے کھانا پانی دیا جائے۔ دوسرے یہ کہ جانوروں پر ظلم بھی گناہ ہے۔علامہ شامی فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم انسان کے ظلم سے بدتر ہے کیونکہ انسان زبان والا ہے اپنے دکھ دوسروں سے کہہ سکتا ہے بے زبان جانور خدا کے سواء کس سے کہے۔ تیسرے یہ کہ کبھی گناہ صغیرہ پر بھی عذاب ہوجاتا ہے،کبائر سے بچے یا نہ بچے،رب تعالٰی کا یہ فرمان"اِنۡ تَجْتَنِبُوۡا کَبَآئِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنۡکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ"۔اس میں بخشش کا حتمی وعدہ نہیں ہے بلکہ امید دلائی گئی ہے اور یہ بخشش رب تعالٰی کی مشیت پر موقوف ہے کیونکہ دوسری آیت میں رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"لہذا نہ تو آیات میں تعارض ہے اور نہ یہ حدیث کسی آیت کے خلاف۔بعض علماء نے اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط کیا کہ گناہ صغیرہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ بن جاتا ہے کیونکہ اس عورت کا بلی کو ایک دن کھانا پانی نہ دینا گناہ صغیرہ تھا مگر متواتر عرصہ تک نہ دینے سے کبیرہ بن گیا مگر اس حدیث سے یہ استدلال ضعیف ہے اس کے لیے تو قرآنی آیت موجود ہے"وَلَمْ یُصِرُّوۡا عَلٰی مَا فَعَلُوۡا

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1903