Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1916

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيِّتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ، وَمَا أَكَلَتِ الْعَافِيَةُ مِنْهُ فَهُوَ لَهٗ صَدَقَةٌ". رَوَاهُ [النَّسَائِيُّ] وَالدَّارَمِيُّ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "من أحيا أرضا ميتة فله فيها أجر، وما أكلت العافية منه فهو له صدقة". رواه [النسائي] والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو افتادہ زمین کو آباد کرلے ۱؎تو اس میں اسے ثواب ہے اور جو جانور اس سے کھا جائیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے ۲؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اپنی محنت سے بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنادے وہ بہت ثواب کا مستحق ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے رزق کا انتظام ہے۔حکومتیں اپنے غیر آباد علاقے لوگوں کو مفت دیتی ہیں ان کا ٹیکس معاف کردیتی ہیں بلکہ ہزار ہا روپے سے آباد کرنے والوں کی امداد کرتی ہیں اسکا ماخذ یہی حدیث ہے اس کے بارے میں آئمہ کا اختلاف آئندہ بیان ہوگا۔
۲
؎اس کی بحث پہلے ہوچکی کہ کبھی بغیر ارادہ نیکی ہوجانے پر بھی ثواب مل جاتاہے۔عافیہ عفیٌسے بنا،بمعنی طلب رزق،عافی رزق کا متلاشی اب جانوروں اور پرندوں کو کہتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ ثواب تب ملے گا جب کہ اس پر صبروشکر کیا جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1916