Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1920

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَقُولُ: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ كَسَا مُسْلِمًا ثَوْبًا إِلَّا كَانَ فِي حِفْظٍ مِنَ اللّٰهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ مِنْهُ خِرْقَةٌ". رَوَاهُ أَحْمدُ وَالتِّرْمِذِيُّ.

وعن ابن عباس قال: سمعت رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم- يقول: "ما من مسلم كسا مسلما ثوبا إلا كان في حفظ من الله ما دام عليه منه خرقة". رواه أحمد والترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کو کپڑا نہیں پہناتا مگر جب تک اس کے بدن پر اس کا ایک چیتھڑا بھی رہے یہ اللہ کی حفاظت میں رہتا ہے ۱؎(احمد،ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب تک فقیر کے جسم پر اس کپڑے کی ایک چیز باقی ہے تب تک اللہ تعالٰی پہنانے والے کو آفات دنیاوی سے محفوظ رکھتا ہے کیونکہ صدقہ آفتوں سے بچانے میں بے مثال ہے یا مطلب یہ ہے کہ تب تک اللہ اس کی عیب پوشی فرماتا رہتا ہے۔حدیث شریف میں ہے کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی ستر پوشی کرے تو اللہ اس کی عیب پوشی کرتا ہے،اور یہ حدیث اس حدیث کی شرح ہے۔یہ تو کپڑا پہنانے کا دنیاوی فائدہ ہوا اُخروی فائدہ تو ہمارے خیال سے وراء ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قدر صدقہ کی بقا اسی قدر اس کے فائدے کی بقا لہذا صدقہ جاریہ بہت ہی اعلیٰ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1920