Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1900

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا أَوْ يَزْرَعُ زَرْعًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ طَيْرٌ أَوْ بَهِيمَةٌ إِلَّا كَانَتْ لَهٗ صَدَقَةٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ما من مسلم يغرس غرسا أو يزرع زرعا فيأكل منه إنسان أو طير أو بهيمة إلا كانت له صدقة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں جو کوئی باغ لگائے یا کھیت بوئے پھر اس سے آدمی یا چڑیاں یا جانور کچھ کھالیں مگر اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎عرب میں دستور تھا کہ باغ والے مسافروں کو دو ایک پھل توڑ لینے سے منع نہ کرتے جیسے ہمارے ہاں بھی چنے کا ساگ کاٹنے سے لوگ منع نہیں کرتے،مسافر بھی اس دستور سے واقف تھے وہ بھی چوری کی نیت سے نہیں بلکہ عرفی اجازت کی بنا پر دو چار دانے منہ میں ڈال لیتے تھے،نیز کبھی جانور کھیت پر سے گزرتے ہوئے سبزے میں ایک آدھ منہ مار دیتے ہیں سرکار نے ان سب کو مالک کے لیے صدقہ قرار دیا اس کی وجہ پہلے عرض کی جاچکی کہ کبھی بغیر نیت بھی ثواب مل جاتاہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1900