Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1919

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَن عَائِشَةَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً، فَقَالَ النَّبِيُّ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ " قَالَتْ: مَا بَقِي مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا، قَالَ: "بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَصَحَّحَهُ

عن عائشة أنهم ذبحوا شاة، فقال النبي -صلی اللہ عليه وسلم-: "ما بقي منها؟ " قالت: ما بقي منها إلا كتفها، قال: "بقي كلها غير كتفها". رواه الترمذي وصححه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضر ت عائشہ سے کہ اہل بیت نے بکری ذبح کی ۱؎تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں سے کیا بچا وہ بولیں کہ کندھے کے سواء کچھ نہ بچا ۲؎فرمایا کندھے کے سوا سب بچ گیا ۳؎ترمذی اور ترمذی نے اسے صحیح فرمایا۔

شرح حدیث

۱∞؎بکری ذبح کرنے والے بعض صحابہ کرام تھے یا بعض ازواج پاک،دوسرے احتمال کو محدثین نے ترجیح دی ہے،چونکہ ازواج پاک کو اہلِ بیت بھی کہا جاتا ہے اور یہ لفظ مذکر ہے اس لیے جمع مذکر کا صیغہ ارشاد ہوا، فرشتوں نے بی بی سارا زوجہ ابراہیم علیہما السلام سے عرض کیا تھا"اَتَعْجَبِیۡنَ مِنْ اَمْرِ اللہِ رَحْمَتُ اللہِ وَبَرَکٰتُہٗ عَلَیۡکُمْ اَہۡلَ الْبَیۡتِ
۲
؎یعنی سارا گوشت خیرات کردیا گیا صرف شانہ بچا ہے غالبًا یہ گھر کے خرچ کے لیے رکھا گیا ہوگا اور یہ بکری صدقہ کے لیے ذبح نہ کی گئی ہوگی کہ صدقہ کا گوشت گھر کے خرچ کے لیے نہیں رکھا جاتا۔
۳
؎یعنی جو راہِ خدا میں صدقہ دے دیا گیا وہ باقی اور لازوال ہوگیا اور جو اپنے کھانے کے لیے رکھا گیا وہ ہضم ہوکر فنا ہوجائے گا،رب تعالٰی فرماتاہے:"مَا عِنۡدَکُمْ یَنۡفَدُ وَمَا عِنۡدَ اللہِ بَاقٍ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1919