Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1906

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: "اعْزِلِ الأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَسَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ: "اتَّقُوا النَّارَ" فِي "بَابِ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ".ان شاء الله تعالٰی

وعن أبي برزة قال: قلت: يا نبي الله! علمني شيئا أنتفع به، قال: "اعزل الأذى عن طريق المسلمين". رواه مسلم. وسنذكر حديث عدي بن حاتم: "اتقوا النار" في "باب علامات النبوة".ان شاء الله تعالی

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو برزہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی ﷲ مجھے وہ بات سکھائیے جس سے نفع اٹھاؤں فرمایا مسلمانوں کے راستہ سے موذی چیز ہٹا دو ۱؎(مسلم)اور ہم حضرت عدی ابن حاتم کی یہ حدیث "اتقوا النار"ان شاءاللہباب علامات نبوتمیں بیان کریں گے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎سائل نے تو کوئی پڑھنے کے لیے وظیفہ پوچھا ہوگا مگر سرکار نے یہ فرمایا کہ آخرت کی نجات صرف وظیفوں پر موقوف نہیں بلکہ مسلمانوں کی خدمت سے بھی میسر ہوجاتی ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یہ سائل کوئی جلیل القدر صحابی تھے جو سارے نیک اعمال پہلے ہی کرتے تھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ عمل بتاکر اشارۃً سمجھا دیا کہ خدمت خلق بھی ایک اعلیٰ نیکی ہے۔
۲
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی لیکن ہم نے مشکوٰۃ میں باب علامات نبوت میں بیان کی کیونکہ اس کے زیادہ مناسب تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1906