- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1912
باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1912
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "الْمَاءُ". فَحَفَرَ بِئْرًا، وَقَالَ: هَذِهِ لأُمِّ سَعْدٍ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
وعن سعد بن عبادة قال: يا رسول الله! إن أم سعد ماتت فأي الصدقة أفضل؟ قال: "الماء". فحفر بئرا، وقال: هذه لأم سعد. رواه أبو داود والنسائي.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت سعد ابن عبادہ سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ام سعد وفات پا گئیں تو اب کون سا صدقہ بہتر ہے ۱؎فرمایا پانی ۲؎لہذا سعد نے کنواں کھدوایا اور فرمایا یہ کنواں ام سعد کا ہے ۳؎(ابوداؤد،نسائی)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی میں کونسا صدقہ دے کر ان کی روح کو اس کا ثواب بخشوں۔اس سے معلوم ہوا کہ بعد وفات میت کو نیک اعمال خصوصًا مالی صدقہ کا ثواب بخشنا سنت ہے،قرآن کریم میں جو فرمایا گیا:"لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْ"یا فرمایا گیا"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"۔جن سے معلوم ہوا کہ انسان کو صرف اپنی کی ہوئی نیکیاں فائدہ مند ہیں وہاں بدنی فرائض مراد ہیں اسی لیے وہاںکسبتیاسعٰیارشاد ہوا یعنی کوئی کسی کی طرف سے فرض نمازیں ادا نہیں کرسکتا ثواب ہر عمل کا بخش سکتے ہیں لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں،قرآن کریم سے تو یہاں تک ثابت ہے کہ نیکوں کی برکت سے بُروں کی آفتیں ٹل جاتی ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا"۔
۲؎یعنی ان کی طرف سے پانی کی خیرات کرو کیونکہ پانی سے دینی دنیوی منافعے حاصل ہوتے ہیں خصوصًا ان گرم و خشک علاقوں میں جہاں پانی کی کمی ہو،بعض لوگ سبیلیں لگاتے ہیں،عام مسلمان ختم فاتحہ وغیرہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ پانی بھی رکھ دیتے ہیں ان سب کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ اس سے معلوم ہوا کہ پانی کی خیرات بہتر ہے۔
۳؎یعنی ام سعد کی روح کے ثواب کے لیے ہے۔یہ لام نفع کا ہے نہ کہ ملکیت کا۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ ثواب بخشتے وقت ایصال ثواب کے الفاظ زبان سے ادا کرنا سنت صحابہ ہے کہ خدایا اس کا ثواب فلاں کوپہنچے۔دوسرے یہ کہ کسی چیز پر میت کا نام آجانے سے وہ شئے حرام نہ ہوگی،دیکھو حضرت سعد نے اس کنوئیں کو اپنی مرحومہ ماں کے نام پر منسوب کیا،وہ کنواں اب تک آباد ہے اور اس کا نام بیرام سعد ہی ہے،فقیر نے اس کا پانی پیا ہے۔یہ"وَمَاۤ اُہِلَّ بِہٖ لِغَیۡرِ اللهِ"کے خلاف نہیں کہ وہاں وہ جانور مراد ہیں جو غیر خدا کے نام پر ذبح کئے جائیں۔خیال رہے کہ یہ حدیث چند اسنادوں سے مروی ہے۔چنانچہ ابوداؤد کی ایک اسنا دمیں یوں ہے"عَنْ اَبِیْ عَنْ اِسْحَاقَ الْبُسَّیْعِیْ عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ ابْنِ عُبَادَۃَ"۔چونکہ اس میںعَنْ رَجُلٍآگیا لہذا یہ اسناد مجہول ہوگئی۔دوسری اسناد یوں ہے "عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ اَنَّ سَعْدًا اَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ"الخ۔یہ اسناد ابوداؤد و نسائی ابن حبان میں بھی ہے۔تیسری اسنادیوں ہے"عَنْ سَعِیْدِ ابْنِ الْمَسَیَّبِ وَالْحَسَنِ الْبَصَرِیِّ کِلَاھُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَۃَ"یہ دونوں اسنادیں منقطع ہیں کیونکہ سعید ابن مسیب اور حسن بصری کی ملاقات حضرت سعد ابن عبادہ سے نہ ہوئی۔(ازمرقات)مگر یہ انقطاع و جہالت کوئی مضر نہیں چند وجہوں سے:ایک یہ کہ حدیث اس بنا پر زیادہ سے زیادہ ضعیف ہوسکتی ہے اور حدیث ضعیف فضائل اعمال اور ثبوت استحباب میں کافی ہوتی ہے دیکھو کتب فقہ اور شامی وغیرہ ایصال ثواب فرض یا واجب نہیں صرف سنت مستحبہ ہے۔دوسرے یہ کہ یہ کسی حدیث صحیح کے متعارض نہیں،کسی حدیث میں یہ نہیں آیا کہ ایصال ثواب حرام ہے تاکہ یہ حدیث چھوڑ دی جائے۔تیسرے یہ کہ اس حدیث کی تائید بہت سی احادیث صحیحہ سے ہوتی ہے۔چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ایک قربانی اپنی امت کی طرف سے کرتے تھے اور فرماتے تھے الٰہی اسے قبول کرلے امت مصطفٰے کی طرف سے۔(مسلم،بخاری)اور سیدنا علی مرتضٰے ہمیشہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کرتے رہے، فرماتے تھے مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔(ابوداؤد،ترمذی)چوتھے یہ کہ اس حدیث کی تائید قرآنی آیات سے بھی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ فِیۡۤ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوۡمِ"اور فرماتاہے:"وَیَتَّخِذُ مَا یُنۡفِقُ قُرُبٰتٍ عِنۡدَ اللہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ"۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ اول اور فہرست القرآن میں ملاحظہ کیجئے۔پانچویں یہ کہ ہمیشہ سے سارے مسلمان ایصال ثواب پر عمل کرتے رہے اور عمل امت کی وجہ سے حدیث ضعیف بھی قوی ہوجاتی ہے،دیکھو ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم اور شامی وغیرہ۔چھٹے یہ کہ جب امام بخاری کی تعلیق قبول جس میں وہ اسناد بیان ہی نہیں کر تے سیدھے کہہ دیتے ہیںقال ابن عباسکیونکہ امام بخاری ثقہ ہیں تو حضرت سعید ابن مسیب اور خواجہ حسن بصری کا انقطاع بھی قبول کیونکہ یہ دونوں حضرات امام بخاری سے کم ثقہ نہیں بلکہ اپنے یقین کامل کی بنا پر براہ راست حضرت سعد کا واقعہ بیان کردیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1912