Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1891

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: "فَمَنْ تَبعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: "فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: "فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : "من أصبح منكم اليوم صائما؟ " قال أبو بكر: أنا، قال: "فمن تبع منكم اليوم جنازة؟ " قال أبو بكر: أنا. قال: "فمن أطعم منكم اليوم مسكينا؟ " قال أبو بكر: أنا. قال: "فمن عاد منكم اليوم مريضا؟ ". قال أبو بكر: أنا. فقال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : "ما اجتمعن في امرئ إلا دخل الجنة ". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آج تم میں سے کس نے روزہ دار ہوکر صبح کی ۱؎حضرت ابوبکر نے کہا میں نے فرمایا آج تم میں سے کو ن جنازے کے ساتھ گیا حضرت ابوبکر نے عرض کیا میں فرمایا آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھلایا حضرت ابوبکر نے کہا میں نے فرمایا آج تم میں سے کس نے کسی بیمار کی عیادت کی حضرت ابوبکر نے عرض کیا میں نے تب رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص میں یہ خصلتیں نہیں جمع ہوتیں مگر وہ جنت میں جاتا ہے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا جماعت صحابہ سے یہ سوال فرمانا ان پر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر کرنے اور انہیں آپ کے روزانہ کے اعمال دکھانے کے لیے ہے ورنہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک کے سارے ظاہر و خفیہ اعمال سے خبردار ہیں، رب تعالٰی فرماتا ہے:"اِنَّاۤ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیۡکُمْ رَسُوۡلًا شَاهِدًا عَلَیۡکُمْ۲؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ شیخ کا اپنے مریدوں کے حالات کی تفتیش کرنا،یونہی استاد کا شاگردوں کے خفیہ حالات معلوم کرنا سنت سے ثابت ہے۔دوسرے یہ کہ امتی کا نبی سے مرید کا شیخ سے ،شاگرد کا استاد سے اپنی خفیہ نیکیاں بیا ن کرنا ریا نہیں بلکہ ان کی دعاء لے کر زیا دہ قابل قبول بنانا ہے۔تیسرے یہ کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ عابد ترین صحابہ ہیں کہ آپ کے روزانہ کے یہ اعمال ہیں۔خیال رہے کہاَنَایعنی میں کہنا فخر وغیرہ کے لیے ہو تو منع ہےعجز و نیاز کے طور پر جائز ہے۔چوتھے یہ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بشہادت حدیث و قرآن کریم جنتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1891