Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1902

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"غُفِرَ لِامْرَأَةٍ مُومِسَةٍ مَرَّتْ بِكَلْبٍ عَلَى رَأْسِ رَكِيٍّ يَلْهَثُ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ، فَنَزَعَتْ خُفَّهَا فَأَوْثَقَتْهُ بِخِمَارِهَا،فَنَزَعَتْ لَهٗ مِنَ الْمَاءِ، فَغُفِرَ لَهَا بِذَلِكَ". قِيلَ: إِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ أَجْرًا؟ قَالَ: "فِي كُلِّ ذَاتِ كبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم:"غفر لامرأة مومسة مرت بكلب على رأس ركي يلهث كاد يقتله العطش، فنزعت خفها فأوثقته بخمارها،فنزعت له من الماء، فغفر لها بذلك". قيل: إن لنا في البهائم أجرا؟ قال: "في كل ذات كبد رطبة أجر". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس زانیہ عورت کی مغفرت ہو گئی ۱؎جو ایک کتے پرگزری کہ ایک کنوئیں کے کنارے ہانپ رہا تھا قریب تھا کہ پیاس اسے قتل کردیتی اس نے اپنا موزہ اتارا اسے اپنے دوپٹے سے باندھا اس طرح پانی نکالا ۲؎اس وجہ سے بخش دی گئی عرض کیا گیا کہ کیا ہم کو جانوروں میں بھی ثواب ہے فرمایا ہر تر کلیجے والے میں ثواب ہے ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مُوْمِسَہْوَمْسٌسے بنا،بمعنی رگڑ،اس کا مصدرایماسہے،بمعنی زنا کرنا۔ظاہر یہ ہے کہ اس کے سارے گناہ بخش دیئے گئے تھے جیسے کہغفرکے اطلاق سے معلوم ہوا۔
۲
؎یعنی اس کے پاس ڈول رسی تھے نہیں تو اس نے اپنے دوپٹہ کو رسی بنایا اور موزے کو ڈول کہ موزہ میں پانی بھر کر کتے کے منہ میں ڈال دیا جس سے اس کی آنکھ کھل گئیں اور وہ چلا گیا۔
۳
؎تر کلیجے والے سے مراد ہر جاندار ہے مگر اس سے موذی جانور مستثنٰی ہیں لہذا سانپ،بچھو،شیر وغیرہ کو مار دینا ثواب ہے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ گناہ کبیرہ بغیر توبہ معاف ہوسکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ کبھی معمولی نیکی بڑے سے بڑے گناہوں کے بخشے جانے کا سبب بن جاتی ہے۔تیسرے یہ کہ بعض صوفیاء اپنے ہاں انسانوں کے لنگر کے ساتھ جانوروں کے دانے پانی کا بھی انتظام کرتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ تمہارا کھانا متقی ہی کھائیں اس سے دعوت کا کھانا مراد ہے نہ کہ حاجت کا کھانا لہذا احادیث متعارض نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1902