Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1915

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ بُهَيْسَةَ عَنْ أَبِيهَا قَالَتْ: قَالَ: يَا رَسُول اللّٰه! مَا الشَيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "الْمَاءُ". قَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "الْمِلْحُ". قَالَ: يَا نَبِيَّ اللّٰهِ! مَا الشَّيْءُ الَّذِيْ لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن بهيسة عن أبيها قالت: قال: يا رسول الله! ما الشيء الذي لا يحل منعه؟ قال: "الماء". قال: يا نبي الله! ما الشيء الذي لا يحل منعه؟ قال: "الملح". قال: يا نبي الله! ما الشيء الذي لا يحل منعه؟ قال: "أن تفعل الخير خير لك". رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت بہیسہ ۱؎سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا یارسول ﷲ وہ کونسی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا پانی پھر عرض کیا یا نبی ﷲ اور کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا نمک ۲؎عرض کیا یا نبی ﷲ اور کون سی چیز ہے جس کا منع کرنا جائز نہیں فرمایا ہر اچھا کام کرنا تمہارے لیے بہتر ہے ۳؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎صحیح یہ ہے کہ حضرت بہیسہ خود بھی صحابیہ ہیں مگر آپ کی احادیث بہت کم ہیں۔
۲
؎یہاں جواز سے مراد شرعی جواز نہیں بلکہ عرفی جواز ہے یعنی مروت وغیرہ کہ ان چیزوں کا منع کرنا خلاف مروت ہے اور یہ بھی وہاں ہے جہاں پانی اور نمک کی خود مالک کو ضرورت نہ ہو ورنہ بعض وہ علاقے جہاں پانی کمیاب بلکہ نایاب ہے وہاں ضرورت کے وقت پانی نہ دینا نہ خلاف مروت ہے نہ گناہ یہی حال نمک کا ہے۔
۳
؎یہ عام حکم ہے یعنی اس کی تفصیل کہاں تک بیان کی جائے جو نیکی بن پڑے کر گزرو وقت کی قدر کرو کہعگیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں۔رب تعالٰی فرماتاہے:"فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ"۔شعر
اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہوسکے کرلے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے
میاں محمد بخش صاحب فرماتے ہیں۔
صدا نہ بلبل باغیں بولے سدا نہ باغ بہاراں
صدا نہ حسن جوانی ماپے سدا نہ صحبت یاراں

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1915