Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1926

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-:"مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللّٰهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ". قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّا قَدْ جَرَّبْنَا فَوَجَدْنَاهُ كَذَلِكَ. رَوَاهُ رَزِينٌ.

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-:"من وسع على عياله في النفقة يوم عاشوراء وسع الله عليه سائر سنته". قال سفيان: إنا قد جربنا فوجدناه كذلك. رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو دسویں محرم اپنے بچوں کے خرچ میں فراخی کرے گا تو اللہ تعالٰی سارا سال اس کو فراخی دے گا ۱؎سفیان فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا ۲؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی محرم کی دسویں۱۰ تاریخ کو اپنے بال بچوں،نوکر خادموں،فقراء مساکین کے لیے مختلف قسم کے کھانے تیار کرے توان شاءالله تعالٰیسال بھر تک ان کھانوں میں برکت ہوگی،مسلمان عاشورہ کے دن حلیم پکاتے ہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ حلیم میں ہر کھانا ہوتا ہے،گندم گوشت اور دالیں چاول وغیرہ توان شا ء اللهحلیم پکانے والے کے گھر ان تمام کھانوں میں برکت ہوگی۔
۲
؎یعنی سفیان فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے تجربہ میں آئی ہے واقعی اس عمل سے برکت ہوتی ہے لہذا یہ حدیث قوی ہے۔خیال رہے کہ تجربہ سے بھی حدیث کو تقویت پہنچتی ہے اس لیے محدثین حدیث کی توثیق کے لیے کبھی اپنے تجربہ کا ذکر کردیتے ہیں،یہاں بھی ایسا ہی ہے اس کی بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھئے۔خیال رہے کہ عاشورہ کے دن خود روزہ رکھو اور بچوں کو فقراء کو خوب کھلاؤ پلاؤ لہذا یہ حدیث عاشورہ کے روزہ کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1926