Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1918

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هٰذَا؟ قَالُوا: هٰذَا رَسُولُ اللّٰهِ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: "لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ" قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰهِ؟قَالَ: "أَنَا رَسُولُ اللّٰهِ الَّذِي إِن أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ". قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ. قَالَ: "لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا"، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً. قَالَ: "وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذٰلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ؛ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِكَ عَلَيهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ السَّلَامِ، وَفِي رِوَايَةٍ: "فَيَكُونُ لَكَ أَجْرُ ذٰلِكَ وَوَبَالُهُ عَلَيْهِ".

وعن أبي جري جابر بن سليم قال: أتيت المدينة، فرأيت رجلا يصدر الناس عن رأيه، لا يقول شيئا إلا صدروا عنه، قلت: من هذا؟ قالوا: هذا رسول الله، قال: قلت: عليك السلام يا رسول الله مرتين، قال: "لا تقل: عليك السلام، عليك السلام تحية الميت، قل: السلام عليك" قلت: أنت رسول الله؟قال: "أنا رسول الله الذي إن أصابك ضر فدعوته كشفه عنك، وإن أصابك عام سنة فدعوته أنبتها لك، وإذا كنت بأرض قفر أو فلاة فضلت راحلتك فدعوته ردها عليك". قلت: اعهد إلي. قال: "لا تسبن أحدا"، قال: فما سببت بعده حرا ولا عبدا ولا بعيرا ولا شاة. قال: "ولا تحقرن شيئا من المعروف، وأن تكلم أخاك وأنت منبسط إليه وجهك، إن ذلك من المعروف، وارفع إزارك إلى نصف الساق، فإن أبيت فإلى الكعبين، وإياك وإسبال الإزار؛ فإنها من المخيلة، وإن الله لا يحب المخيلة، وإن امرؤ شتمك وعيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه، فإنما وبال ذلك عليه". رواه أبو داود، وروى الترمذي منه حديث السلام، وفي رواية: "فيكون لك أجر ذلك ووباله عليه".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو جری جابر ابن سلیم سے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا ۱؎تو میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ لوگ ان کی رائے سے کام کرتے ہیں وہ کوئی بات نہیں کہتے مگر لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ۲؎میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں لوگ بولے یہ رسول اللہ ہیں ۳؎فرماتے ہیں میں نے دوبار عرض کیاعلیك السلامیارسول الله۴؎تو فرمایاعلیك السلامنہ کہا کرو کیونکہعلیك السلاممُردوں کا آپس كا سلام ہے ۵؎بلکہ کہوالسلامعلیك۶؎میں نے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ ہیں فرمایا میں اللہ کا ایسا رسول ہوں کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اور میں اس سے دعا کروں تو وہ تمہاری تکلیف دور کردے اور اگر تمہیں قحط سالی پہنچے میں اس سے دعا کردوں تو تم پر اگا دے۷؎اور جب تم چٹیل زمین یا جنگل میں ہو اور تمہاری سواری گم ہوجائے میں اس سے دعا کروں تو اللہ وہ تمہیں واپس لوٹا دے ۸؎میں نے عرض کیا مجھے نصیحت کیجئے فرمایا کسی کو گالی نہ دینا فرماتے ہیں اس کے بعد میں نے کسی آزاد یا غلام اور اونٹ اور بکری کو گالی نہ دی ۹؎فرمایا اور کسی اچھی بات کو حقیر نہ جاننا ۱۰؎اور اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے کلام کیاکرنا یہ بھی نیکی ہے اور اپنا تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھنا اگر نہ مانو تو ٹخنوں تک ۱۱؎اور تہبند زیادہ نیچا رکھنے سے ہمیشہ بچنا کہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالٰی تکبر کو پسندنہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اورتمہیں کسی ایسے عیب سے عار دلائے جو تم میں وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے ایسے عیب سے عار نہ دلاؤ جو تم اس میں جانتے ہو۱۲؎اس کا وبال اس پر ہے۔(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی نے ان سے سلام کی حدیث نقل کی اور ایک روایت میں ہے کہ تم کو اس کا ثواب ملے گا اور اس پر اس کا وبال ہوگا۱۳؎

شرح حدیث

۱∞؎صحیح یہ ہے کہ آپ کا نام جابر ابن سلیم ہے،بعض نے سلیم ابن جابربھی کہا ہے مگر یہ غلط ہے،صحابی ہیں مگر بہت ہی کم احادیث آپ سے مروی ہیں،دیہات کے رہنے والے تھے،کام کے لیے کبھی مدینہ پاک آتے تھے اس بار جو آئے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف ملاقات نصیب ہوا جس کا واقعہ یہاں مذکور ہے۔
۲
؎یعنی آپ کی ہر بات مانتے ہیں وجہ نہیں پوچھتے۔صَدَرُوْاصدورسے بنا جس کے معنے ہیں بے سمجھے سوچے چل پڑنا۔
۳
؎یعنی میں نے امراء حکام اور بادشاہوں کے خدام بھی دیکھے مگر کسی کے خدام ایسے بندہ بے دام نہ پائے مجھے تعجب ہوا کہ ان کی شان تو شاہانہ نہیں مگر فرمان شاہوں سے اعلیٰ ہیں اس لیے تعجب سے پوچھا۔
۴
؎مگر آپ نے جواب نہ دیا کیونکہ سلام غلط تھا۔معلوم ہوا کہ صحیح سلام کا جواب دینا واجب ہے غلط سلام کو درست کرنا ضروری ہے۔ہمارے ہاں بعض جہلاء بھیا سلام،ابا سلام کہتے ہیں،یا آداب عرض،تسلیمات عرض ان میں سے کسی کا جواب دینا واجب نہیں بلکہ انہیں سلام سکھانا چاہیئے۔
۵
؎اس جملہ کے بہت سے معنے کئے گئے ہیں:ایک یہ کہ قبرستان میں جاکر مردوں کوعلیك السلامکہو مگر یہ غلط ہے کیونکہ وہاں بھیالسلام علیکمکہنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ کفارعرب قبرستان جاکر مردوں کو یہ سلام کرتے تھے۔تیسرے یہ کہ جب مردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں توعلیك السلامکہتے ہیں۔چوتھے یہ کہعلیك السلامکہنا مردوں کے لیے مناسب ہے زندے سلام توالسلام علیکمسے کریں اور جواب میںوعلیکم السلامبولیں۔والله اعلم!فقیر کے نزدیک تیسری توجیہ قوی ہے۔
۶
؎یعنی جب ایک دوسرے سے ملو توالسلام علیكکہو یا ہم سے ملاقات کے وقت تحیت کے لیے یہ کہو درود شریف کے موقعہ پر صلوۃ و سلام جمع کرکے کہو،رب تعالٰی فرماتاہے:"صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۷
؎مرقات نے فرمایا کہ یہاں تینوں صیغے متکلم کے ہیں اوراَلَّذِیرسول کی صفت ہے یعنی میں وہ رسول ہوں کہ میری دعا سے اللہ تعالٰی لوگوں کی مصیبتیں ٹالتا ہے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعائیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تینوں صیغے مخاطب کے ہوں اوراَلَّذِیاللہ تعالٰی کی صفت ہو یعنی میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تو مصیبتوں میں میرے وسیلہ سے اس سے دعائیں کرے تو پروردگار تیری آفتیں ٹال دے۔(مرقات)وسیلہ کی اس لیے قید لگائی کہ یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی پہچان کرارہے ہیں وہ خدا کو تو پہلے ہی پہچانتا تھا۔فقیر کے نزدیک پہلے معنے زیادہ مناسب ہیں کیونکہ اس میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت زیادہ ہے جو یہاں اصل مقصود ہے۔
۸
؎دوسرے معنے کی بنا پر اس حدیث سے ثابت یہ ہوگا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے حاضر اور غائب غلاموں کے دکھ درد سے خبردار ہیں اور انہیں دعائیں دیتے رہے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ
۹
؎اگرسَبٌّسے مراد فحش گالی ہے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے کہ مسلمان فحش گو نہیں ہوتا اور اگر برا کہنا مراد ہے تو اگرچہ بعض وقت کسی کو برا کہناجائز تو ہوتا ہے مگر اس سے بچنا بہتر،ان صحابی نے اس بہتر پر عمل کیا۔
۱۰
؎یعنی اگر خدا تجھے تھوڑی نیکی کی بھی توفیق دے تو اسے کر گزر اور خدا کا بہت شکر کر،موقع کو غنیمت جان کہ کبھی تھوڑی نیکی سے ہی نجات ہوجائےگی اور شکر کی توفیق سے آئندہ بڑی نیکیاں بھی نصیب ہوجائیں گی۔
۱۱
؎یہ حکم مرد کے لیے ہے کہ اسے ٹخنوں کے نیچے پاجامہ یا تہبند رکھنا بطریق تکبر حرام ہے اور بے پرواہی سے خلاف اولٰی مگر آج کل آدھی پنڈلی تک کے پاجامے وہابیوں کی علامت ہیں جیسے ہمیشہ سر منڈانا لہذا ٹخنوں کے اوپر رکھے،عورتوں کا تہبند یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے چاہیئے۔
۱۲
؎یہ انتہائی حسن اخلاق کی تعلیم ہےکہ اگر کوئی تمہارے عیب کھولے تو تم اس کے عیب نہ کھولو کسی نے کیا مزے کا شعر کہا۔شعر
بدی رابدی سہل باشد جزاء اگر مردے
اَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَاءَمگر یہ اپنے ذاتی معاملات میں ہے اور وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ اگر کوئی بدنصیب اللہ کے محبوبوں کو عیب لگائے تو اس کے سارے چھپے عیب کھول دینا سنت الہیہ ہے،دیکھو ولید ابن مغیرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون کہا تو رب تعالٰی نے جو ستّار عیوب ہے سورۂ نون میں اس کے دس عیب کھولے حتی کہ اخیر میں فرمایا: "عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ"کہ وہ حرام کا تخم ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔اپنے دشمن کو معافی دینا کمال ہے اور دین کے دشمنوں سے بدلہ لینا کمال۔
۱۳
؎خیال رہے کہ ذاتی معاملات میں کسی مسلمان کے عیب کھولنا سخت جرم ہے جس کا وبال بہت ہے مگر دینی معاملات میں خود مسلمان کے عیب کھولنا عبادت ہے۔محدثین حدیث کے راویوں کے عیوب بیان کرجاتے ہیں غیبت یا عیب لگانے کے لیے نہیں بلکہ حدیث کا درجہ معین کرنے کے لیے کہ اس کے راویوں میں چونکہ فلاں عیب ہے لہذا یہ حدیث ضعیف ہے فضائل اعمال میں کام آئے گی،احکام میں کام نہ دے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1918