- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1918
باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1918
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هٰذَا؟ قَالُوا: هٰذَا رَسُولُ اللّٰهِ، قَالَ: قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللّٰهِ مَرَّتَيْنِ، قَالَ: "لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ" قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللّٰهِ؟قَالَ: "أَنَا رَسُولُ اللّٰهِ الَّذِي إِن أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ أَوْ فَلَاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ". قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ. قَالَ: "لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا"، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً. قَالَ: "وَلَا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذٰلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ؛ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِكَ عَلَيهِ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ حَدِيثَ السَّلَامِ، وَفِي رِوَايَةٍ: "فَيَكُونُ لَكَ أَجْرُ ذٰلِكَ وَوَبَالُهُ عَلَيْهِ".
وعن أبي جري جابر بن سليم قال: أتيت المدينة، فرأيت رجلا يصدر الناس عن رأيه، لا يقول شيئا إلا صدروا عنه، قلت: من هذا؟ قالوا: هذا رسول الله، قال: قلت: عليك السلام يا رسول الله مرتين، قال: "لا تقل: عليك السلام، عليك السلام تحية الميت، قل: السلام عليك" قلت: أنت رسول الله؟قال: "أنا رسول الله الذي إن أصابك ضر فدعوته كشفه عنك، وإن أصابك عام سنة فدعوته أنبتها لك، وإذا كنت بأرض قفر أو فلاة فضلت راحلتك فدعوته ردها عليك". قلت: اعهد إلي. قال: "لا تسبن أحدا"، قال: فما سببت بعده حرا ولا عبدا ولا بعيرا ولا شاة. قال: "ولا تحقرن شيئا من المعروف، وأن تكلم أخاك وأنت منبسط إليه وجهك، إن ذلك من المعروف، وارفع إزارك إلى نصف الساق، فإن أبيت فإلى الكعبين، وإياك وإسبال الإزار؛ فإنها من المخيلة، وإن الله لا يحب المخيلة، وإن امرؤ شتمك وعيرك بما يعلم فيك فلا تعيره بما تعلم فيه، فإنما وبال ذلك عليه". رواه أبو داود، وروى الترمذي منه حديث السلام، وفي رواية: "فيكون لك أجر ذلك ووباله عليه".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو جری جابر ابن سلیم سے فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ آیا ۱؎تو میں نے ایک صاحب کو دیکھا کہ لوگ ان کی رائے سے کام کرتے ہیں وہ کوئی بات نہیں کہتے مگر لوگ اس پر عمل کرتے ہیں ۲؎میں نے پوچھا یہ کون صاحب ہیں لوگ بولے یہ رسول اللہ ہیں ۳؎فرماتے ہیں میں نے دوبار عرض کیاعلیك السلامیارسول الله۴؎تو فرمایاعلیك السلامنہ کہا کرو کیونکہعلیك السلاممُردوں کا آپس كا سلام ہے ۵؎بلکہ کہوالسلامعلیك۶؎میں نے عرض کیا کہ آپ رسول اللہ ہیں فرمایا میں اللہ کا ایسا رسول ہوں کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے اور میں اس سے دعا کروں تو وہ تمہاری تکلیف دور کردے اور اگر تمہیں قحط سالی پہنچے میں اس سے دعا کردوں تو تم پر اگا دے۷؎اور جب تم چٹیل زمین یا جنگل میں ہو اور تمہاری سواری گم ہوجائے میں اس سے دعا کروں تو اللہ وہ تمہیں واپس لوٹا دے ۸؎میں نے عرض کیا مجھے نصیحت کیجئے فرمایا کسی کو گالی نہ دینا فرماتے ہیں اس کے بعد میں نے کسی آزاد یا غلام اور اونٹ اور بکری کو گالی نہ دی ۹؎فرمایا اور کسی اچھی بات کو حقیر نہ جاننا ۱۰؎اور اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے کلام کیاکرنا یہ بھی نیکی ہے اور اپنا تہبند آدھی پنڈلی تک اونچا رکھنا اگر نہ مانو تو ٹخنوں تک ۱۱؎اور تہبند زیادہ نیچا رکھنے سے ہمیشہ بچنا کہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالٰی تکبر کو پسندنہیں کرتا اور اگر کوئی شخص تمہیں گالی دے اورتمہیں کسی ایسے عیب سے عار دلائے جو تم میں وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے ایسے عیب سے عار نہ دلاؤ جو تم اس میں جانتے ہو۱۲؎اس کا وبال اس پر ہے۔(ابوداؤد،ترمذی)اور ترمذی نے ان سے سلام کی حدیث نقل کی اور ایک روایت میں ہے کہ تم کو اس کا ثواب ملے گا اور اس پر اس کا وبال ہوگا۱۳؎
شرح حدیث
۱∞؎صحیح یہ ہے کہ آپ کا نام جابر ابن سلیم ہے،بعض نے سلیم ابن جابربھی کہا ہے مگر یہ غلط ہے،صحابی ہیں مگر بہت ہی کم احادیث آپ سے مروی ہیں،دیہات کے رہنے والے تھے،کام کے لیے کبھی مدینہ پاک آتے تھے اس بار جو آئے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے شرف ملاقات نصیب ہوا جس کا واقعہ یہاں مذکور ہے۔
۲؎یعنی آپ کی ہر بات مانتے ہیں وجہ نہیں پوچھتے۔صَدَرُوْاصدورسے بنا جس کے معنے ہیں بے سمجھے سوچے چل پڑنا۔
۳؎یعنی میں نے امراء حکام اور بادشاہوں کے خدام بھی دیکھے مگر کسی کے خدام ایسے بندہ بے دام نہ پائے مجھے تعجب ہوا کہ ان کی شان تو شاہانہ نہیں مگر فرمان شاہوں سے اعلیٰ ہیں اس لیے تعجب سے پوچھا۔
۴؎مگر آپ نے جواب نہ دیا کیونکہ سلام غلط تھا۔معلوم ہوا کہ صحیح سلام کا جواب دینا واجب ہے غلط سلام کو درست کرنا ضروری ہے۔ہمارے ہاں بعض جہلاء بھیا سلام،ابا سلام کہتے ہیں،یا آداب عرض،تسلیمات عرض ان میں سے کسی کا جواب دینا واجب نہیں بلکہ انہیں سلام سکھانا چاہیئے۔
۵؎اس جملہ کے بہت سے معنے کئے گئے ہیں:ایک یہ کہ قبرستان میں جاکر مردوں کوعلیك السلامکہو مگر یہ غلط ہے کیونکہ وہاں بھیالسلام علیکمکہنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ کفارعرب قبرستان جاکر مردوں کو یہ سلام کرتے تھے۔تیسرے یہ کہ جب مردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں توعلیك السلامکہتے ہیں۔چوتھے یہ کہعلیك السلامکہنا مردوں کے لیے مناسب ہے زندے سلام توالسلام علیکمسے کریں اور جواب میںوعلیکم السلامبولیں۔والله اعلم!فقیر کے نزدیک تیسری توجیہ قوی ہے۔
۶؎یعنی جب ایک دوسرے سے ملو توالسلام علیكکہو یا ہم سے ملاقات کے وقت تحیت کے لیے یہ کہو درود شریف کے موقعہ پر صلوۃ و سلام جمع کرکے کہو،رب تعالٰی فرماتاہے:"صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا"لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔
۷؎مرقات نے فرمایا کہ یہاں تینوں صیغے متکلم کے ہیں اوراَلَّذِیرسول کی صفت ہے یعنی میں وہ رسول ہوں کہ میری دعا سے اللہ تعالٰی لوگوں کی مصیبتیں ٹالتا ہے،حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعائیں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تینوں صیغے مخاطب کے ہوں اوراَلَّذِیاللہ تعالٰی کی صفت ہو یعنی میں اس اللہ کا رسول ہوں کہ اگر تو مصیبتوں میں میرے وسیلہ سے اس سے دعائیں کرے تو پروردگار تیری آفتیں ٹال دے۔(مرقات)وسیلہ کی اس لیے قید لگائی کہ یہاں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنی پہچان کرارہے ہیں وہ خدا کو تو پہلے ہی پہچانتا تھا۔فقیر کے نزدیک پہلے معنے زیادہ مناسب ہیں کیونکہ اس میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت زیادہ ہے جو یہاں اصل مقصود ہے۔
۸؎دوسرے معنے کی بنا پر اس حدیث سے ثابت یہ ہوگا کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے حاضر اور غائب غلاموں کے دکھ درد سے خبردار ہیں اور انہیں دعائیں دیتے رہے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ"۔
۹؎اگرسَبٌّسے مراد فحش گالی ہے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے کہ مسلمان فحش گو نہیں ہوتا اور اگر برا کہنا مراد ہے تو اگرچہ بعض وقت کسی کو برا کہناجائز تو ہوتا ہے مگر اس سے بچنا بہتر،ان صحابی نے اس بہتر پر عمل کیا۔
۱۰؎یعنی اگر خدا تجھے تھوڑی نیکی کی بھی توفیق دے تو اسے کر گزر اور خدا کا بہت شکر کر،موقع کو غنیمت جان کہ کبھی تھوڑی نیکی سے ہی نجات ہوجائےگی اور شکر کی توفیق سے آئندہ بڑی نیکیاں بھی نصیب ہوجائیں گی۔
۱۱؎یہ حکم مرد کے لیے ہے کہ اسے ٹخنوں کے نیچے پاجامہ یا تہبند رکھنا بطریق تکبر حرام ہے اور بے پرواہی سے خلاف اولٰی مگر آج کل آدھی پنڈلی تک کے پاجامے وہابیوں کی علامت ہیں جیسے ہمیشہ سر منڈانا لہذا ٹخنوں کے اوپر رکھے،عورتوں کا تہبند یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے چاہیئے۔
۱۲؎یہ انتہائی حسن اخلاق کی تعلیم ہےکہ اگر کوئی تمہارے عیب کھولے تو تم اس کے عیب نہ کھولو کسی نے کیا مزے کا شعر کہا۔شعر
بدی رابدی سہل باشد جزاء اگر مردےاَحْسِنْ اِلٰی مَنْ اَسَاءَمگر یہ اپنے ذاتی معاملات میں ہے اور وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ اگر کوئی بدنصیب اللہ کے محبوبوں کو عیب لگائے تو اس کے سارے چھپے عیب کھول دینا سنت الہیہ ہے،دیکھو ولید ابن مغیرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون کہا تو رب تعالٰی نے جو ستّار عیوب ہے سورۂ نون میں اس کے دس عیب کھولے حتی کہ اخیر میں فرمایا: "عُتُـلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیۡـمٍ"کہ وہ حرام کا تخم ہے لہذا یہ حدیث ان آیات کے خلاف نہیں۔اپنے دشمن کو معافی دینا کمال ہے اور دین کے دشمنوں سے بدلہ لینا کمال۔
۱۳؎خیال رہے کہ ذاتی معاملات میں کسی مسلمان کے عیب کھولنا سخت جرم ہے جس کا وبال بہت ہے مگر دینی معاملات میں خود مسلمان کے عیب کھولنا عبادت ہے۔محدثین حدیث کے راویوں کے عیوب بیان کرجاتے ہیں غیبت یا عیب لگانے کے لیے نہیں بلکہ حدیث کا درجہ معین کرنے کے لیے کہ اس کے راویوں میں چونکہ فلاں عیب ہے لہذا یہ حدیث ضعیف ہے فضائل اعمال میں کام آئے گی،احکام میں کام نہ دے گی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1918