Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1892

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : "يا نساء المسلمات لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے مؤمن بیبیو کوئی پڑوسن کا ہدیہ حقیر نہ جانے اگرچہ بکری کی کھری ہی ہو ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر تم امیر ہو اور تمہاری پڑوسن غریب اور وہ غریب اپنی محبت سے کوئی معمولی چیز بطور ہدیہ بھیجے تو نہ اسے واپس کردو اور نہ اسے نگاہ حقارت سے دیکھو بلکہ خوشی سے قبول کرو کہ اس کا دل خوش ہوجائے اللہ تعالٰی اخلاص کا ایک پیسہ بھی قبول فرمالیتا ہے۔اس حدیث کا مطلب اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے یعنی کوئی عورت اپنی پڑوسن کو معمولی ہدیہ دینے میں نہ ہچکچائے جو کچھ جُڑے بنے دیتی رہےکہ ہدیوں سے محبتیں بڑھتی ہیں،چونکہ چیزوں میں عیب نکالنے کی عادت زیادہ عورتوں میں ہوتی ہے اس لیے انہی سے خطاب کیا گیا،یہ حدیث ہم غریبوں کے لیے بڑی ہمت افزا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکینوں کے معمولی ہدیہ ثواب وغیرہ کو بھی ردّ نہیں فرماتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1892