Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1910

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ أَخِيكَ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.

وعن جابر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "كل معروف صدقة، وإن من المعروف أن تلقى أخاك بوجه طلق، وأن تفرغ من دلوك في إناء أخيك". رواه الترمذي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بھلائی صدقہ ہے اور بھلائی سے یہ بھی ہے کہ تو اپنے بھائی سے کشادہ روئی سے ملے اور اپنے ڈول سے اپنے بھائی کے برتن میں ڈول دے ۱؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎شروع باب میں صدقہ کے معنے عرض کئے جاچکے ہیں۔صدقہ حقیقی مال سے ہوتا ہے اور صدقہ حکمی اعمال سے بھی،مسلمان بھائی سے محبت سے ملنا اس کی خوشنودی دل کا ذریعہ ہے اور مسلمان کو خوش کرنا ثواب لہذا یہ عمل صدقہ،نیز کنوئیں پر جو لوگ پانی لینے کے لیے جمع ہوں ان کے برتوں میں پانی ڈال دینا بھی ان کی راحت اور خوشی کا ذریعہ ہے لہذا یہ بھی صدقہ،پانی ڈالنا بطور مثال بیان ہوا۔مقصد یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے ساتھ معمولی سی بھلائی کرنا بھی ثواب ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1910