Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1904

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَرَّ رَجُلٌ بِغُصْنِ شَجَرَةٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقٍ، فَقَالَ: لأُنَحِّيَنَّ هٰذَا عَنْ طَرِيقِ الْمُسلمين لَا يُؤْذِيهِمْ، فَأُدْخِلَ الْجنَّةَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "مر رجل بغصن شجرة على ظهر طريق، فقال: لأنحين هذا عن طريق المسلمين لا يؤذيهم، فأدخل الجنة". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص درخت کی شاخ پرگزرا جو برسرراہ پڑی تھی وہ بولا کہ اسے مسلمانوں کے راہ سے ہٹا دوں کہیں انہیں تکلیف نہ دے ۱؎وہ جنت میں داخل کیا گیا ۲؎(مسلم، بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎وہ شاخ یا تو خاردار تھی جس کے کانٹے لوگوں کو چبھ جانے کا اندیشہ تھا اور اگر بے خار تھی تو اتنی موٹی تھی جس سے راہ گیر ٹھوکر کھاتے۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہورہا ہے کہ موذی چیز کو راستہ سے ہٹانے میں مسلمانوں کی خدمت کی نیت کرے نہ کہ کفار کی۔
۲
؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس شخص نے ہٹانے کی نیت ہی کی تھی اس نیت پر بخشاگیا نیکی کا ارادہ بھی نیکی ہے اور ممکن ہے کہ اس نے ہٹا بھی دی ہو جس کا یہاں ذکر نہیں آیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1904