- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 3
- زکوۃ کا بیان
- حدیث نمبر 1923
باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1923
زکوۃ کا بیان - جلد 3
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَمَّا خَلَقَ اللّٰهُ الأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ، فَخَلَقَ الْجبَالَ، فَقَالَ بِهَا عَلَيْهَا، فَاستَقَرَّتْ، فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجبَالِ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنِ الْجِبَالِ؟قَالَ: نَعَمْ، الْحَدِيدُ. قَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، النَّارُ. فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: نَعَمْ، الْمَاءُ، قَالُوا: يَا رَبِّ! فَهَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءَ؟ قَالَ: نَعَمْ، الرِّيحُ، فَقَالُوا: يَا رَبِّ! هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، ابْنْ آدَمَ تَصَدَّقَ صَدقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ غَريبٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذٍ: "الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ" فِي "كِتَابِ الإِيمَانِ".
وعن أنس قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "لما خلق الله الأرض جعلت تميد، فخلق الجبال، فقال بها عليها، فاستقرت، فعجبت الملائكة من شدة الجبال، فقالوا: يا رب! هل من خلقك شيء أشد من الجبال؟قال: نعم، الحديد. قالوا: يا رب! هل من خلقك شيء أشد من الحديد؟ قال: نعم، النار. فقالوا: يا رب! هل من خلقك شيء أشد من النار؟ قال: نعم، الماء، قالوا: يا رب! فهل من خلقك شيء أشد من الماء؟ قال: نعم، الريح، فقالوا: يا رب! هل من خلقك شيء أشد من الريح؟ قال: نعم، ابن آدم تصدق صدقة بيمينه يخفيها من شماله". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب. وذكر حديث معاذ: "الصدقة تطفئ الخطيئة" في "كتاب الإيمان".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسولﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جبﷲنے زمین کو پیدا کیا تو زمین ہلنے لگی ۱؎تو پہاڑوں کو پیدا فرمایا تو انہیں زمین میں گاڑ دیا تو زمین ٹھہر گئی ۲؎تو فرشتوں نے پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب کیا بولے الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہے ۳؎فرمایا ہاں لوہا ہے ۴؎عرض کیا یا الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں آگ ہے ۵؎عرض کیا مولے کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز آگ سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں پانی ہے ۶؎بولے یاالٰہ العالمینکیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پانی سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں ہوا ہے ۷؎بولے اے پروردگار کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز ہوا سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں وہ انسان جو داہنے ہاتھ سے خیرات کرے جسے بائیں ہاتھ سے چھپالے ۸؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور حضرت معاذ کی یہ حدیث کہ صدقہ خطائیں مٹا دیتا ہےکتاب الایمانمیں ذکر ہوچکی۔
شرح حدیث
۱∞؎جیسے ہلکی کشتی و جہاز پانی پر ہلتا ہے اسی طرح زمین ہلتی تھی فرشتوں نے گمان کیا کہ اس سے لوگ نفع نہ اٹھا سکیں گے۔
۲؎مرقات نے فرمایا کہ پہلے ابوقبیس پہاڑ پیدا ہوا پھر دوسرے پہاڑ،ان پہاڑوں سے زمین ایسی ٹھہر گئی جیسے جہاز میں وزن لاد دینے سے دریا پر ٹھہرجاتا ہے جنبش نہیں کرتا۔قال قولسے بنا،بمعنی گاڑ دینا،پہاڑ زمین میں ایسے گڑھے ہیں جیسے زمین میں مضبوط درخت کہ پہاڑوں کی جڑیں دور تک پھیلی ہوتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاَلْقٰی فِی الۡاَرْضِ رَوٰسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمْ"۔بعض شراح نے فرمایا کہ یہاںقالکہنے ہی کے معنے میں ہے یعنی پہاڑ پیدا فرماکر زمین سے فرمایا ٹھہر گئی،یعنی زمین کا ٹھہرناکُنْفرمانے سے ہے پہاڑ محض سبب ہیں مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۳؎فرشتوں کو حیرت یہ ہوئی کہ پہاڑوں نے اتنی بڑی زمین کو اس طرح دبوچ لیا کہ اسے ہلنے نہیں دیتے تو ان سے سخت تر مخلوق کون سی ہوگی۔خیال رہے کہ پہاڑ زمین سے زیادہ وزنی نہیں مگر جیسے جہاز کا سامان جہاز کے وزن سے کہیں ہلکا ہوتا ہے مگر جہاز کو ہلنے نہیں دیتا اسی طرح پہاڑ کا معاملہ ہے۔
۴؎کیونکہ لوہا پہاڑ کو توڑ دیتا ہے پہاڑ لوہے کو نہیں توڑتا۔
۵؎کہ آگ لوہے کو پگھلا دیتی ہے،بلکہ زیادہ تیز ہو تو لوہے کو گلا کر پانی بنادیتی ہے۔
۶؎کہ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اگرچہ آگ پانی کو گرم بھی کردیتی ہے اور جلا بھی دیتی ہے مگر کسی برتن کی مدد سے جب کہ پانی اس میں بند ہو اگر آڑ ہٹا دی جائے تو پانی ہی آگ کو بجھاتا ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں پانی قید میں رہ کر جلتا ہے۔
۷؎کیونکہ ہوا پانی سے لدے بادلوں کو اڑا ئے پھرتی ہے اور سمندر میں طلاطم پیدا کردیتی ہے جس سے وہاں طوفان برپا ہوجاتا ہے۔
۸؎کیونکہ ایسا سخی اس سرکش نفس کو تابعدار کرلیتا ہے جو پہاڑ سے زیادہ سخت سمندر و ہوا سے زیادہ طوفانی ہے۔نفس اولًا تو بخل سکھاتا ہے جب سخاوت کی جائے تو دکھلاوے کو پسند کرتا ہے یہ خفیہ سخاوت کرنے والا نفس کی دونوں خواہشوں کو کچل دیتا ہے اور نفس کی آگ کو بجھا دیتا ہے لہذا بڑا بہادر ہے،نیز خفیہ صدقہ سے غضب الٰہی کی آگ بجھتی ہے،رضائے الٰہی حاصل ہوتی ہے،یہ نعمتیں پہاڑ،لوہے،آگ،پانی،ہوا سے حاصل نہیں ہوسکتیں لہذا یہ صدقہ ان سب سے بہتر۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ سخاوت مال سے سخاوت حال افضل ہے اور سخاوت حال سے سخاوت کمال بہتر کہ سخاوت مال میں فقیر کی اسی زندگی کے دو ایک دن سنبھل جاتے ہیں مگر حال و کمال کی سخاوت سے ہم جیسے مسکینوں کے دونوں جہاں درست ہوجاتے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاقیامت لوگوں کے دین و دنیا سنبھال دیئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بڑے داتا ہیں جیسے زمین پہاڑوں سے ٹھہری ایسے ہی ہمارے دل کسی کی نگاہ کرم سے ٹھہر سکتے ہیں ورنہ دل کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1923