Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1924

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ -صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهٗ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللّٰهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ، كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ". قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: "إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ، وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً فَبَقَرَتَيْنِ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ.

عن أبي ذر قال: قال رسول الله -صلی اللہ عليه وسلم-: "ما من عبد مسلم ينفق من كل مال له زوجين في سبيل الله إلا استقبلته حجبة الجنة، كلهم يدعوه إلى ما عنده". قلت: وكيف ذلك؟ قال: "إن كانت إبلا فبعيرين، وإن كانت بقرة فبقرتين". رواه النسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسلمان اپنے ہر مال سے جوڑاکی راہ میں خیرات نہیں کرتا ۱؎مگر جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے ان میں سے ہر ایک اس کی طرف بلائے گا جو اس کے پاس ہے ۲؎میں نے عرض کیا یہ کیسے کرے فرمایا اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے اور اگر گائیں ہوں تو دو گائے دے ۳؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎بعض لوگ فقیر کو کپڑوں کا جوڑا اور جوتا بھی دیتے ہیں نیز روپیہ پیسہ خیرات کرتے ہیں تو کم از کم دو۔ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،حدیث بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
۲
؎یعنی جنت کے ہر دروازہ پر اس کی پکار پڑے گی کہ ادھر سے آؤ۔یہ اظہار عزت کے لیے ہوگا یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق کی فوج ہوں گے وہ اس جماعت کے سردار اعلیٰ رضی اللہ عنہ"یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمٰمِہِمْ
۳
؎اس شرح نے بتادیا کہ حدیث میں ایک جنس کی دو نوعیتیں مراد نہیں،یعنی روٹی و پانی،جوتا و ٹوپی بلکہ ایک نوع کی دو فردیں مراد ہیں یعنی پیسہ خیرات کرو تو دو روپے ہوں،کپڑے ہوں تو دو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1924