Main Icon

باب :صدقہ کی فضیلت - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1897

زکوۃ کا بیان - جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِ مِئَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللَّه، وَحَمِدَ اللّٰهَ، وَهَلَّلَ اللّٰهَ، وَسَبَّحَ اللّٰهَ ، وَاسْتَغْفَرَ اللّٰهَ ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ شَوْكَةً، أَوْ عَظْمًا،أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهٰى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَالثَّلَاثِ مِئَةِ، فَإِنَّهُ يَمْشِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلی اللہ عليه وسلم : "خلق كل إنسان من بني آدم على ستين وثلاث مئة مفصل، فمن كبر الله، وحمد الله، وهلل الله، وسبح الله ، واستغفر الله ، وعزل حجرا عن طريق الناس، أو شوكة، أو عظما،أو أمر بمعروف، أو نهى عن منكر عدد تلك الستين والثلاث مئة، فإنه يمشي يومئذ وقد زحزح نفسه عن النار". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اولاد آدم میں ہر انسان تین سو ساٹھ جوڑوں پر پیدا کیا گیا ۱؎تو جو اللہ کی تکبیر کہے،اس کی حمد کرے، تہلیل کرے،تسبیح پڑھے، اللہ سے معافی چاہے،لوگوں کے راستہ سے پتھریا کانٹا یا ہڈی ہٹا دے یا اچھی بات کا حکم دے یا برائی سے منع کرے ان تین سو ساٹھ کی گنتی کے برابر تو وہ اس دن کی طرح چلے گا کہ اپنی جان کو آگ سے دور کرے گا ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎انسان کی اس لیے قید لگائی تاکہ اس سے فرشتے اور جنات نکل جائیں کہ نہ ان کے جسموں میں اتنے جوڑ ہیں نہ ان کے یہ احکام۔ ہمارے یہ جوڑ انگلی کے پوروں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک ہیں اگر ان میں سے ایک جوڑ خراب ہوجائے تو زندگی دشوار ہو جائے،قدرت نے ہڈی کو ہڈی میں اس طرح پیوست کیا ہے کہ کواڑ کی چول کی طرح ہڈی گھومتی ہلتی ہے اس کے باوجود نہ گھستی ہے نہ خراب ہوتی ہے۔
۲
؎سبحان الله !کیسی جامع حدیث ہے جس میں عبادات معاملات اور ورد و وظیفہ سب ہی آگئے۔مرقات نے فرمایا کہ اچھی باتوں کا حکم اور بری باتوں سے ممانعت زبانی بھی ہوتی ہے دلی بھی اورعملی بھی۔عالم کا دینی وعظ زبانی تبلیغ ہے،دینی کتاب لکھ جانا قلمی تبلیغ کہ جب تک اس کتا ب کا فیض جاری ہے اس کا ثواب باقی اور لوگوں کے سامنے اچھے اعمال کرنا برے اعمال سے بچنا عملی تبلیغ ہے کہ جتنے لوگ اسے دیکھ کر نیک بنیں گے ان سب کا ثواب اسے ملے گا بلکہ روزانہ ملتا رہے گا اور اس کے جوڑوں کا شکریہ ادا ہوتا رہے گا۔اس حدیث کے آخری جملہ سے اشارۃً معلوم ہوتاہے کہ کبھی نفلی عبادت کے ترک پربھی پکڑ ہوجاتی ہے کیونکہ سرکار نے فرمایا جس دن اتنے کام کرلیے اس روز اپنے کو آگ سے دور کرلیا۔جو شخص دو رکعتیں اشراق کی پڑھ لے اس کے تمام جوڑوں کا شکریہ ادا ہوگیا جیساکہکتاب الصلوۃمیں گزر چکا ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 3 , حدیث نمبر: 1897