Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5266

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: اسْتَسْقَى يَوْمًا عُمَرُ، فَجِيءَ بِمَاءٍ قَدْ شيبَ بعسلٍ، فَقَالَ: إِنَّه لَطيِّبٌ، لَكِنِّي أَسْمَعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ نَعَى عَلَى قَوْمٍ ۔شَهَوَاتِهِمْ فَقَالَ: أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا فَأَخَافُ أَنْ تَكُونَ حَسَنَاتُنَا عُجِّلَتْ لَنَا، فَلَمْ يَشْرَبْهُ. رَوَاهُ رَزِينٌ.

وعن زيد بن أسلم قال: استسقى يوما عمر، فجيء بماء قد شيب بعسل، فقال: إنه لطيب، لكني أسمع الله عز وجل نعى على قوم ۔شهواتهم فقال: أذهبتم طيباتكم في حياتكم الدنيا واستمتعتم بها فأخاف أن تكون حسناتنا عجلت لنا، فلم يشربه. رواه رزين.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت زید ابن اسلم سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر نے پانی مانگا توایسا پانی لایا گیا جو شہد سے مخلوط تھا۲؎فرمایا یہ بہت اچھا ہے مگر میں اعزوجل کو سن رہا ہوں کہ اس نے لوگوں پر ان کی خواہشات سے عیب لگایا ۳؎کہ فرمایا کہ تم اپنی پسندیدہ چیز اپنی دنیاوی زندگی میں حاصل کرچکے ان سے نفع لے چکے،میں ڈرتا ہوں ۴؎کہ ہماری نیکیاں جلدی دے دی گئی ہوں چنانچہ آپ نے وہ نہ پیا ۵؎(رزین)

شرح حدیث

۱∞؎آپ حضرت عمر رضی الله عنہ کے غلام ہیں،مدنی ہیں،تابعی ہیں،بڑے فقیہ عالم محدث اور زاہد و متقی ہیں، ۱۳۶ھ؁ ایک سو چھتیس میں وفات پائی۔ (مرقات،اکمال)
۲
؎یعنی بجائے سادہ پانی کے شہد کا ٹھنڈا شربت لایا گیا۔
۳
؎یعنی اس وقت مجھے پیاس بھی ہے اور یہ شربت لذیز بھی ہے دل پینے کو بہت چاہ رہا ہے مگر مجھے یہ آیت کریمہ یاد آرہی ہے۔
۴
؎خیال رہے کہ یہ آیت کریمہ کفار کے متعلق ہے مگر حضرت عمر رضی الله عنہ پر اس وقت خوف الٰہی حد درجہ کا طاری تھا،خیال فرمایا کہ اس آیت کے الفاظ عام ہیں،ہوسکتا ہے کہ اس میں ہم بھی داخل ہوجاویں لہذا بہتر یہ ہے کہ اس وقت نہ پیوں۔الله والوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں کبھی ان پر خوف کا غلبہ ہوتا ہے،کبھی امید کا لہذا یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے بلکہ حضرات صحابہ نے مرغ بٹیریں بھی کھائیں ہیں۔
۵
؎اس حالت میں یہ شربت چھوڑنا انتہائی زہد و تقویٰ ہے جس پر بڑا اجر ہے اور دوسرے وقت الله کی نعمتیں خوب کھا کر خوب شکر کرنا عبادت ہے،غرضکہ صبر کا اور وقت ہے شکر کا دوسرا وقت۔شعر
اگر درویش برحالے بماندے دوست از دو عالم برفشاندے

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5266