Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5252

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ، قَالَ: "انْظُرْ مَا تَقُولُ"، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لأُحِبُّكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: "إِنْ كُنْتَ صَادِقًا فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، لَلْفَقْرُ أَسْرعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .

وعن عبد الله بن مغفل قال: جاء رجل إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- فقال: إني أحبك، قال: "انظر ما تقول"، فقال: والله إني لأحبك، ثلاث مرات، قال: "إن كنت صادقا فأعد للفقر تجفافا، للفقر أسرع إلى من يحبني من السيل إلى منتهاه". رواه الترمذي وقال: هذا حديث غريب .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن مغفل سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں آپ سے محبت کرتاہوں ۲؎فرمایا سوچ لے تم کیا کہتے ہو ۳؎وہ بولا الله کی قسم میں آپ سے محبت کرتا ہوں ۴؎تین بارکہا تو فرمایا کہ اگر تو سچا ہے تو کیل کانٹے سے فقیری کیلئے تیار ہوجا۵؎یقینًا فقیری مجھ سے محبت کرنے والے کی طرف تیز دوڑتی ہے بمقابلہ سیلاب کے اپنی انتہاء کی طرف ۶؎(ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں ،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،اولًا مدینہ منورہ میں پھر بصرہ میں رہے۔(اشعہ)
۲
؎یہ عرض کرنا یا اس حدیث پر عمل ہے کہ جس سے تم کو محبت ہو اس سے کہہ دو یا اس آیت کریمہ پر عمل ہے "وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ"۔ حضور صلی الله علیہ وسلم سے محبت الله تعالٰی کی بڑی سے بڑی نعمت ہے اس کا اظہار وہ بھی حضور انور کے سامنے یہ اس نعمت کا شکریہ ہے ورنہ حضور کو تو پتھروں کے دل کا حال معلوم ہے،فرماتے ہیں احد ہم سے محبت کرتا ہے۔
۳
؎یعنی خوب سوچ کر یہ دعویٰ کرو تم بہت ہی بڑی چیز کا دعویٰ کررہے ہو مجھ سے محبت کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔
۴
؎محبت سے مراد بہت ہی محبت ہے ورنہ ہر مؤمن کو حضور صلی الله علیہ وسلم سے محبت ہے حضور کی محبت ہی تو اصل ایمان ہے، حضور کی محبت سے ہی خدا کی محبت،کلمہ قرآن کی محبت اسی محبت سے حاصل ہوتی ہے حضور سے تعلق و محبت ایمان کی اصل ہے۔
۵
؎تجفافت کے کسرہ اور جیم کے سکون سے بمعنی آلات جنگ خود ذرہ وغیرہ یعنی تم تیار ہوجاؤ کہ فقیری کے آفات کا مقابلہ کرسکو۔
۶
؎یہاں بھی فقیری سے مراد دل کی مسکینیت ہے اور دل کا محبت مال سے خالی ہوجانا ہے فقیری اور ناداری آفتوں کے برداشت کرنے پر تیار ہوجانایعنی جسے الله میری محبت دیتا ہے اس کے دل سے محبت مال وغیرہ یک دم نکال دیتا ہے لہذا اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بعض صحابہ بلکہ عہد فاروقی میں سارے صحابہ بڑے مالدار تھے تو کیا انہیں حضور سے محبت نہ تھی ضرور تھی،ان سب کے دل محبت مال سے خالی تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ دنیا میں بہت آفات انبیاءکرام پر آتی ہیں اور یہ ہے ان کا محب تو اس پر آفتیں آئیں گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5252