Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5261

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "حُبِّبَ إِلَيَّ الطِّيبُ وَالنِّسَاءُ، وَجُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ. وَزَادَ ابْنُ الْجَوْزِيِّ بَعْدَ قَوْلِهِ: "حُبِّبَ إِليَّ": "منَ الدُّنْيَا".

وعن أنس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "حبب إلي الطيب والنساء، وجعلت قرة عيني في الصلاة". رواه أحمد والنسائي. وزاد ابن الجوزي بعد قوله: "حبب إلي": "من الدنيا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجھے تین چیزیں پیاری کی گئیں: خوشبو، بیویاں ۱؎اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ۲؎(احمد نسائی)اور ابن جوزی نےحبب الیکے بعدمن الدنیازیادہ کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎حببفرما کر بتایاکہ یہ محبت ہمارے نفس کی طرف سے نہیں بلکہ الله کی طرف سے ہے،رب تعالٰی نے ان چیزوں کو ہمارا محبوب بنا دیا۔
۲
؎معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو نماز سے رغبت طبعی جبلی تھی،رب تعالٰی ان کے صدقہ سے ہم گنہگاروں کو بھی نصیب کرے،نماز،مسجد سے محبت ایمان کی علامت ہے۔خیال رہے کہ پہلی حدیث میں بیوی،خوشبو،کھانے کو دنیا کی چیزیں قرار دیا گیا تھا یہاں دنیا کا لفظ نہیں کیونکہ نماز دنیا کی چیز نہیں یہ خالص دینی کام ہے۔جن لوگوں نے ان تینوں کو دنیاوی کاموں میں داخل کیا ہے وہ غلط ہے اس کا ثبوت حدیث شریف میں کہیں نہیں۔(اشعۃ اللمعات)بلکہ بیویوں اور خوشبو کو دنیا فرمانا اس لیے ہے کہ ان سے تعلق دنیا میں رہتا ہے۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی بیویاں حضور کی خوشبوئیں دین تھیں کہ دین میں مددگار تھیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5261