Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5256

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- قَالَ: "خَصْلَتَانِ مَنْ كَانَتَا فِيهِ كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، مَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ فَاقْتَدَى بِهِ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا فَضَّلَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، كَتَبَهُ اللَّهُ شَاكِرًا صَابِرًا، وَمَنْ نَظَرَ فِي دِينِهِ إِلَى مَنْ هُوَ دُونَهُ، وَنَظَرَ فِي دُنْيَاهُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَهُ، فَأَسِفَ عَلَى مَا فَاتَهُ مِنْهُ، لَمْ يَكْتُبْهُ اللَّهُ شَاكِرًا وَلَا صَابِرًا". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.وَذُكَرَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ: "أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ " فِي بَابٍ بَعْدَ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ.

وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال: "خصلتان من كانتا فيه كتبه الله شاكرا صابرا، من نظر في دينه إلى من هو فوقه فاقتدى به، ونظر في دنياه إلى من هو دونه فحمد الله على ما فضله الله عليه، كتبه الله شاكرا صابرا، ومن نظر في دينه إلى من هو دونه، ونظر في دنياه إلى من هو فوقه، فأسف على ما فاته منه، لم يكتبه الله شاكرا ولا صابرا". رواه الترمذي.وذكر حديث أبي سعيد: "أبشروا يا معشر صعاليك المهاجرين " في باب بعد فضائل القرآن.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا جس میں دو عادتیں ہوں اسے الله شاکر صابر لکھتا ہے ۱؎جو اپنے دین میں اپنے سے اوپر والے کو دیکھے تو اس کی پیروی کرے ۲؎اور اپنی دنیا میں اپنے سے نیچے والے کو دیکھے تو الله کا شکر کرے اس پر کہ الله نے اسے اس شخص پر بزرگی دی ۳؎تو الله اسے شاکر صابر لکھے گا اور جو اپنے دین میں اپنے سے کم کو دیکھے اور اپنی دنیا میں اپنے سے اوپر کو دیکھے تو فوت شدہ دنیا پر غم کرے الله (تعالٰی )اسے نہ شاکر لکھے نہ صابر ۴؎(ترمذی)ابوسعید خدری کی حدیث کہ اے فقراء مہاجرین خوش ہوجاؤ اس باب میں ذکر ہوچکی جو فضائل قرآن کے بعد ہے ۵؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی شکر اور صبر دونوں کا ایک شخص میں بیک وقت جمع ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ شکر تو نعمت ملنے پر ہوتا ہے اور صبر نعمت نہ ملنے یا چھن جانے پر ملتا ہے مگر جو ان دو چیزوں پر عمل کرے گا وہ بیک و قت صابر بھی ہوگا اور شاکر بھی،یہ ہے گویا اجتماع ضدین۔
۲
؎یعنی اگر تم اچھے کام کرتے ہو تو ان پر فخر نہ کرو بلکہ ان حضرات کو دیکھو جو تم سے زیادہ نیکیاں کرتے ہیں خواہ وہ زندہ ہوں یا وفات یافتہ۔لہذا ہر مسلمان حضرات صحابہ و اہلِ بیت کے اعمال میں غور کرےکہ انہوں نے کیسی نیکیاں کیں تاکہ اس میں غرور نہ پیدا ہو اور زیادہ نیکیوں کی کوشش کرے،اس کی وجہ سے رب تعالٰی اسے صابر لکھے گا کہ جب یہ شخص ان بزرگوں کے سے کام نہ کرسکے گا تو افسوس کرے گا یہ اس کا صبر ہوگا۔ہم حضرات صحابہ کو دیکھ کر افسوس کریں کہ اس وقت ہم نہ ہوئے،ہم بھی حضور کے جمال سے آنکھیں ٹھنڈی کرتے،انکے قدموں پر جان فدا کرتے یہ ہے صبر۔ شعر
جو ہم بھی واں ہوتے خاکِ گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اُترن مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامُرادی کے دِن لکھے تھے
۳
؎اس چیز کے سوچنے سے اس پر بڑی سے بڑی مصیبت آسان ہوجاوے گی اور وہ رب تعالٰی کا شکر ہی کرے گا۔ہم نے آزمایا ہے کہ کسی کا جوان بیٹا فوت ہوجائے اسے صبر نہ آوے وہ حضرت علی اکبر کی شہادت میں غور کرےان شاءاللهفورًا صبر نصیب ہوگا بلکہ اپنے آرام پر شکر کرے گا۔
۴
؎بلکہ ایسے شخص کی زندگی حسدجلن،بے صبری اور دل کی کوفت میں گزرے گی،امیروں کو دیکھ کر جلتا بھنتا رہے گا کہ ہائے میرے پاس مال کم ہے اوراپنی عبادت پر فخر کرے گا کہ فلاں بے نماز ی ہے اور میں نمازی ہوں میں اس سے کہیں اچھا ہوں،یہ ہے اس کا تکبر،رب تعالٰی فرماتاہے:"لِّکَیۡلَا تَاۡسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا تَفْرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰىکُمْ"۔فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو شخص دنیا کی کمی پر رنج کرے وہ ایک ہزار سال کی راہ دوزخ سے قریب ہوجاوے گا اور جو شخص دینی کوتاہی پر رنج کرے گا وہ جنت سے ایک ہزار سال کی راہ قریب ہوجاوے گا۔(مرقات یہ ہی مقام)خیال رہے کہ دین میں ترقی کرنے کی کوشش کرنا منع نہیں بلکہ مالداروں کی مالداری پر رشک کرنا ممنوع ہے۔
۵
؎یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں مذکور تھی ہم نے وہاں بیان کر دی کہ وہ وہاں کے زیادہ مناسب تھی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5256