باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5240
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ،لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فِرَاشٌ، قَدْ أَثَّرَ الرِّمَالُ بِجَنْبِهِ، مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أٰدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! ادْعُ اللَّهَ، فَلْيُوَسِّعْ عَلَى أُمَّتِكَ، فَإِنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ قَدْ وُسِّعَ عَلَيْهِمْ وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّه، فَقَالَ: "أَوَفِي هَذَا أَنْتَ يَا بْنَ الخَطَّابِ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا". وَفِي رِوَايَةٍ: "أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الآخِرَةُ؟ ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وعن عمر قال: دخلت على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فإذا هو مضطجع على رمال حصير،ليس بينه وبينه فراش، قد أثر الرمال بجنبه، متكئا على وسادة من أدم حشوها ليف، قلت: يا رسول الله! ادع الله، فليوسع على أمتك، فإن فارس والروم قد وسع عليهم وهم لا يعبدون الله، فقال: "أوفي هذا أنت يا بن الخطاب؟ أولئك قوم عجلت لهم طيباتهم في الحياة الدنيا". وفي رواية: "أما ترضى أن تكون لهم الدنيا ولنا الآخرة؟ ". متفق عليه.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت عمر سے فرماتے ہیں کہ میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ تنگوں والی چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ۱؎آپ کے اور اس چٹائی کے درمیان کوئی بستر نہ تھا اورتنگے آپ کی کروٹ میں اثر کر گئے تھے چمڑے کے تکیے پر ٹیک لگائے جس کا بھراؤ کھجور کی چھال سے تھا ۲؎میں نے کہا یارسول اللہ(صلی الله علیہ وسلم)رب سے دعا فرمایئے کہ وہ آپ کی امت پر وسعت فرمادے ۳؎کیونکہ فارس روم پر بڑی وسعت کی گئی ہے حالانکہ وہ الله کی عبادت نہیں کرتے ۴؎فرمایا اے ابن خطاب تم اس خیال میں ہو ۵؎یہ وہ قوم ہے جن کے لیے دنیاوی زندگی میں ان کی نعمتیں دے دی گئی ۶؎اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کیا تم اس سے راضی نہیں کہ دنیا ان کے لیے ہو اور آخرت ہمارے لیے ۷؎(مسلم،بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎حصیرچٹائی رومال کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی،ان پتوں کو اردو میں پنگے کہتے ہیں۔
۲؎یہ ہے حضور صلی الله علیہ وسلم کی سادہ زندگی تکیہ شریف کا غلاف چمڑے کا تھا جس میں بجائے روئی کے کھجور کی نرم چھال یعنی درخت کھجور کا نرم گودا تھا۔
۳؎اس عرض و معروض میں یا تو امت کا ذکر زائد ہے۔مطلب یہ ہے کہ آپ پر وسعت فرمادے مگر بے ادبی کے خوف سے امت کا نام لیا ،یا مطلب یہ ہے کہ حضور آپ کی امت اس فقر وفاقہ میں آپ کی پیروی نہ کرسکے گی،دعا فرمائیں کہ ان پر الله تعالٰی دنیا و سیع کرے انہیں دنیا میں عیش و عشرت نصیب ہو مگر پہلا احتمال زیادہ قوی ہے جیسا کہ جواب عالی سے معلوم ہورہا ہے ۔حضور صلی الله علیہ وسلم کی امت پر حضور کے صدقہ سے دنیا بہت ہی فراخ ہوئی،تمام دنیا کے بادشاہ مسلمان بنادیئے گئے جیسا کہ تواریخ جاننے والوں سے پوشیدہ نہیں۔
بوریا ممنون خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے امتش
۴؎یعنی روم و فارس کے بادشاہ کافر ہیں مگر انہیں دنیا بہت دی گئی ہے،وہ عیش و آرام میں ہیں حضور صلی الله علیہ وسلم تو اﷲکے محبوب ہیں حضور کا عیش و آرام ان سے زیادہ چاہیے۔
۵؎یعنی تمہاری رائے تو ایسی شاندار ہوتی ہے اوس کے موافق قرآنی آیات نازل ہوئی ہیں تم جیسا پختہ اور درست رائے والا کوئی ہی ہوگا، تم بھی یہاں دھوکہ کھا گئے اور کسریٰ و قیصر کی عیش و عشرت والی زندگی کی آرزو رائے ہمارے واسطے کرنے لگے اس لیے یہاں ابن خطاب کے خطاب سے یاد فرمایا نام شریف نہ لیا،ابن خطاب فرمانے میں بھی عجیب ناز و انداز ہے۔
۶؎یعنی ان کفار کو دنیاوی عیش و آرام عطا فرمانا الله تعالٰی کی رحمت نہیں بلکہ عذاب ہے کہ اس کی وجہ سے وہ آخرت کی نعمتوں سے محروم ہوگئے،کفر و فسق کے باوجود نعمتیں ملنا ان پر الله کا عذاب ہے۔
۷؎یعنی کفار کے لیے صرف دنیا ہو ہمارے لیے آخرت بھی ہو ۔صوفیاء کے نزدیک دنیا وہ ہے جو الله سے غافل کردے،جو مال و دولت آخرت کا توشہ بن جائے وہ دین ہے لہذا اسی حدیث کی بنا پر دولت عثمانی پر اعتراض نہیں ہوسکتا وہ تو عین دین تھی،نیز الله تعالٰی نے بعد میں حضور انور صلی الله علیہ وسلم کو بہت دولت عطا فرمائی جو حضور نے اپنے ہاتھوں سے بانٹیں اب بھی ہم سب حضور کے آستانہ سے پل رہے ہیں،بہرحال یہ حدیث بالکل واضح ہے مؤمن کی دنیا اور ہے کافر کی دنیا اور۔شعر
دونوں کی ہے پرواز اسی ایک فضا میں کرگس کا جہاں اور ہے شاہین کا جہاں اور
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5240