Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5264

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَكَتَمَهُ النَّاسَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَرْزُقَهُ رِزْقَ سَنَةٍ مِنْ حلالٍ". رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي "شُعَبِ الإِيمَانِ".

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من جاع أو احتاج فكتمه الناس كان حقا على الله عز وجل أن يرزقه رزق سنة من حلال". رواهما البيهقي في "شعب الإيمان".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو بھوکا یا حاجت مند ہو پھر اسے لوگوں سے چھپائے ۱؎تو الله تعالٰی کے ذمہ کرم پر یہ ہے کہ اسے ایک سال کی حلال روزی عطا فرمائے گا ۲؎(بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں بھوک سے مراد ہے قابل برداشت بھوک جس سے ہلاکت نہ ہو،اس کا چھپانا اور خود کما کر پیٹ بھرنا بہتر ہے لیکن اگر بھوک سے جان نکل رہی ہے تو اس کا ظاہر کرنا کسی سے کچھ لے کر بقدر ضرورت کھالینا فرض ہے،اگر چھپائے گااور بھوکا مرجائے گا تو حرام موت مرے گا۔(مرقات)لہذا فقہاء کا یہ فتویٰ اس حدیث پاک کے خلاف نہیں حدیث کی سچی فہم ضروری ہے۔
۲
؎یہ فرمان بالکل درست ہے اور مجرب ہے اپنی فقیری چھپانے والے بفضلہ تعالٰی امیر ہوجاتے ہیں کبھی جلد اور کبھی دیر سے مگر فقط چھپانے پر کفایت نہ کرے کمانے کی کوشش کرے،یہ سال بھر کی روزی آسمان سے نہیں برسے گی بلکہ اسباب سے ملے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5264