Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5239

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُ مَشَى إِلَى النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم- بِخُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ، وَلَقَدْ رَهَنَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- دِرْعًا لَهُ بِالْمَدِينَةِ عِنْدَ يَهُودِيٍّ وَأَخَذَ مِنْهُ شَعِيرًا لِأهْلِهِ، وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:مَا أَمْسَى عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ بُرٍّ وَلَا صَاعُ حَبٍّ، وَإنَّ عِنْدَهُ لَتِسْعُ نِسْوَةٍ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

وعن أنس: أنه مشى إلى النبي -صلى الله عليه وسلم- بخبز شعير وإهالة سنخة، ولقد رهن النبي -صلى الله عليه وسلم- درعا له بالمدينة عند يهودي وأخذ منه شعيرا لأهله، ولقد سمعته يقول:ما أمسى عند آل محمد صاع بر ولا صاع حب، وإن عنده لتسع نسوة. رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی الله عنہ سے کہ وہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں جو کی روٹی اور پگھلی ہوئی چربی لے کر آئے ۱؎اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک ذرہ اپنی ایک یہودی کے پاس گروی رکھی اور اس سے اپنے گھر والوں کے لیے جولئے ۲؎میں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ حضور محمد مصطفےٰ (صلی الله علیہ وسلم) کے گھر والوں کے پاس ایک صاع گندم نہ ایک صاع دانہ نے شام کی حالانکہ آپ کے پاس نو بیویاں تھیں ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اھالہپگھلائی ہوئی چربی اورسنخہپرانی چربی جس میں پرانی ہونے کی وجہ سے بو پیدا ہوگئی ہو۔معلوم ہوا کہ ایسی چربی حلال ہے کہ یہ مضر صحت نہیں ہوتی مگر سڑا بھنا کھانا صحت کے لیے بہت مضر ہے اس لیے اس کا کھانا جائز نہیں۔
۲
؎حتی کہ جب حضور انور کی وفات ہوئی تو ذرہ یہودی کے ہاں گروی رکھی ہوئی حضرت ابوبکر صدیق نے چھڑائی۔اس سے معلوم ہوا کہ کفار سے تجارتی لین دین مالی معاملات جائز ہیں اگرچہ ان کی آمدنی حرا م و حلال سے مخلوط ہو،یہود کی حرام خوری پر قرآن مجید گواہ ہے"لَیَاۡکُلُوۡنَ اَمْوٰلَ النَّاسِ بِالْبٰطِلِ"مگر حضور انور نے ان سے قرض لیا کفار کے ہدیئے قبول فرمائے۔
۳
؎آل محمد سے مراد حضور کی ازواج پاک ہیں اور یہ واقعہ فتح خیبر سے پہلے کا ہے،فتح خیبر کے بعد حضور انور ہر بیوی صاحبہ کو سال بھر کا خرچ دیدیتے تھے۔(لمعات و اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5239