Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5262

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ قَالَ:"إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ، فَإِنَّ عِبَادَ اللَّه لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِينَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ.

وعن معاذ بن جبل: أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- لما بعث به إلى اليمن قال:"إياك والتنعم، فإن عباد الله ليسوا بالمتنعمين". رواه أحمد.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا کہ تم عیش پسندی سے بچنا ۱؎الله کے بندے عیش و عشرت میں مشغول نہیں ہوتے ۲؎(احمد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی تم یمن میں گورنر بن کر جارہے ہو مگر حکام کی سی عیش و آرام کی زندگی اختیار نہ کرنا،سادی غذا سادہ لباس رکھنا تاکہ نفس موٹا اور تم غافل نہ ہوجاؤ۔سادہ زندگی سے انسان دین و دنیا میں آرام سے رہتا ہے۔افسوس! آج مسلمان یہ سبق بھول گئے۔ہمارے کالجوں میں فیشن پرستی،زیادہ خرچ کرنا سکھایا جاتا ہے،طلباء تعلیم سے فارغ ہو کر خوب فضول خرچ بن کرنکلتے ہیں پھر مہذب ڈاکو شریف بدمعاش بنتے ہیں اور اگر نوکری مل گئی تو رشوتوں سے ملک کو ویران کرتے ہیں،ان کے خرچ اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ تنخواہ سے پورا نہیں پڑتا،رشوتوں سے خرچہ پورا کیا جاتا ہے،اگر معمولی خرچ کریں تو یہ نوبت نہ آئے۔
۲
؎یعنی اکے بندے ہر حال میں خصوصًا امیر یا حاکم بن کر عیش پسند نہیں ہوتے،اگر حکام غافل اور عیش پسند ہوجائیں تو رعایا تباہ ملک برباد ہوگا۔ اتعالٰی کفار کے متعلق فرماتا ہے:"یَاۡکُلُوۡنَ کَمَا تَاۡکُلُ الْاَنْعٰمُ"۔خیال رہے کہ اچھا کھانا اچھا پینا اور چیز ہے مگر عیش پسندی کچھ اور چیز، یوں ہی عمدہ غذا و لباس اور ہے سادہ غذا و لباس کچھ اور،الله دے تو اچھا کھاؤ پہنو مگر سادگی کے ساتھ اور پھر اچھے کھانے پینے کے عادی نہ ہوجاؤ کبھی پلاؤ کھاؤ،کبھی دال،کبھی چٹنی،کبھی پراٹھے اور قورمہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5262