Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5254

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- الْجُوعَ، فَرَفَعْنَا عَنْ بُطُونَنَا عَنْ حَجَرٍ حَجَرٍ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- عَنْ بَطْنِهِ عَنْ حَجَرَيْنِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: ۔۔حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

وعن أبي طلحة قال: شكونا إلى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- الجوع، فرفعنا عن بطوننا عن حجر حجر، فرفع رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن بطنه عن حجرين. رواه الترمذي وقال: ۔۔حديث غريب.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو ہم نے اپنی پیٹ سے ایک ایک پتھر اٹھایا ۱؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پیٹ سے دو پتھر دکھائے ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یہ واقعہ غزوہ خندق کا نہیں کیونکہ اس غزوہ میں تو حضرت ابوطلحہ کے گھر تمام خندق کھودنے والے بلکہ تمام اہل مدینہ کی دعوت حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے کی ہے کہ چار سو جو کی روٹیوں سے سارے اہل مدینہ کو شکم سیر فرمادیا یہ کسی اور غزوہ کا واقعہ ہے۔
۲
؎یعنی تمام صحابہ کو ایک ایک دن کا فاقہ تھا حضور صلی الله علیہ وسلم کو دو دن یا زیادہ کے لگاتار فاقے تھے۔بہت روز تک نہ کھانے سے انسان میں کھڑے ہونے کی قوت نہیں رہتی پیٹ پر پتھر باندھنے سے کھڑا ہونا ممکن ہوجاتا ہے اسے ہم لوگوں نے نہیں آزمایا یہ کام تو حضور صلی الله علیہ وسلم ہی کر گئے ہم کو ایسی نعمتیں کھلاتے ہیں کہسبحان الله!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5254