Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5258

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَاعِدٌ فِي الْمَسْجِدِ وَحَلْقَةٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ قُعُودٌ إِذْ دَخَلَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَعَدَ إِلَيْهِمْ، فَقُمْتُ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "لِيُبَشَّرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ بِمَا يَسُرُّ وُجُوهَهُمْ، فَإِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا"، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَلْوَانَهُمْ أَسفَرَتْ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ عَمْرٍو: حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنْ أكُونَ مَعَهُمْ أَو مِنْهُم. رَوَاهُ الدَّارمِيُّ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: بينما أنا قاعد في المسجد وحلقة من فقراء المهاجرين قعود إذ دخل النبي -صلى الله عليه وسلم- فقعد إليهم، فقمت إليهم، فقال النبي -صلى الله عليه وسلم-: "ليبشر فقراء المهاجرين بما يسر وجوههم، فإنهم يدخلون الجنة قبل الأغنياء بأربعين عاما"، قال: فلقد رأيت ألوانهم أسفرت. قال عبد الله ابن عمرو: حتى تمنيت أن أكون معهم أو منهم. رواه الدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ اس حالت میں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور مہاجرین فقراء کا ایک حلقہ بیٹھا تھا ۱؎کہ اچانک رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو حضور ان کی طرف ہی بیٹھے میں بھی انہیں کی طرف اٹھ گیا ۲؎تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ فقراء مہاجرین اس کی خوشی منائیں جو ان کے چہروں کو کھلا دے ۳؎کہ وہ جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے جائیں گے،فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے رنگ دیکھے چمک سے کھل گئے تھے ۴؎عبدالله ابن عمرو فرماتے ہیں کہ حتی کہ میں نے آرزو کی کہ میں ان کے ساتھ یا ان میں سے ہوجاؤں ۵؎(دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فقراء مہاجرین حلقہ بنائے بیٹھے تھے ۔خیال رہے کہ مسجد میں نماز کے انتظار میں صفیں بنا کر بیٹھنا چاہیے اسی صورت میں حلقے بنانا ممنوع ہے مگر ذکر یا تلاوت قرآن کے لیے حلقے بنا کر بیٹھنا چاہیے۔نمازی لوگ مقربین فرشتوں کی مثل ہوتے ہیں، مقرب فرشتے صف بسۃ الله کی عبادت کرتے ہیں اور ذاکرین لوگ جنتی لوگوں کے مشابہ ہیں جنتی لوگ حلقے بنا کر بیٹھا کریں گے، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ"یہ حضرات اس وقت ذکر یا علمی باتیں کررہے تھے۔قعودجمع ہےقاعدکی جیسےرقودجمعراقدکی یاوقودجمعواقدکی۔
۲
؎میں تومسجد کے اور کنارہ پر تھا وہ حضرات دوسرے کنارے پر،حضور انور صلی الله علیہ وسلم میرے پاس تشریف نہ لائے ان کے پاس بیٹھے تو میں بھی وہاں ہی پہنچ گیا۔
۳
؎یعنی ابھی تمہارے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں ہم تمہیں وہ خوشی کی خبر سناتے ہیں جس سے تمہارے چہرے خوشی سے کھل جاویں۔شعر
اس کی باتوں کی لذت پر دائم درود اس کے خطبہ کی ہیبت پہ لاکھوں سلام
۴
؎اسفرتبنا ہےاسفرارسے بمعنی چمکنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وُجُوۡہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ
۵
؎یعنی ہمیشہ ان فقراء میں سے ہی رہوں کبھی امیر نہ بنوں،اس فرمان عالی کی شرح پہلے کی جاچکی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5258