Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5247

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَنَّهُ كَانَ يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّة".

وعن أمية بن خالد بن عبد الله بن أسيد عن النبي -صلى الله عليه وسلم-: أنه كان يستفتح بصعاليك المهاجرين. رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے امیہ ابن خالد ابن عبدالله ۱؎ابن اسید سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ حضور انور فقراء مہاجرین کے توسل سے فتح مانگتے تھے ۲؎(شرح سنہ)۳؎

شرح حدیث

۱∞؎بعض محدثین نے امیہ بن خالد کو صحابی کہا ہے مگر حق یہ ہے آپ تابعی ہیں،ثقہ ہیں،مکی ہیں یا مدنی، ۸۰ھ؁ کے بعد وفات پائی۔
۲
؎چنانچہ حضور انور جہاد میں یوں دعا فرماتے تھےاللّٰھم انصرنا علی الاعداء بحق عبادك الفقراء المھاجرین۔اگرچہ حضور صلی الله علیہ وسلم خود سب کے وسیلہ عظمٰی ہیں مگر آپ کا ان کے وسیلہ سے دعا فرمانا یہ بتانے کے لیے ہے کہ مقبول بندوں کے وسیلہ سے دعاء کرنا سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے اور افضل بندے اپنے نیک خدام کے وسیلہ سے دعا کیا کریں،صرف نیک اعمال کے وسیلہ پر قناعت نہ کیا کریں۔وسیلہ کی بحث ہماری کتاب" رحمت خدا بوسیلہ اولیاء" میں ملاحظہ کرو۔
۳
؎اس حدیث کو بہت طرح قوت حاصل ہے،رب فرماتا ہے :"لَوْ تَزَیَّلُوۡا لَعَذَّبْنَا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا"اگر مکہ سے یہ فقراء مؤمنین نکل جاتے تو ہم کفار کو عذاب دے دیتے ۔معلوم ہوا کہ کفار کا عذاب سے بچا رہنا فقراء مؤمنین کی برکت سے ہے۔ ابن ابی شیبہ طبرانی نے امیہ ابن عبدالله سے روایت کیکان صلی الله علیہ وسلم بصعالك المسلمین۔امیہ ابن خالد صاحب مشکوۃ کے نزدیک صحابی ہیں اور اگر تابعی بھی ہوں تو نہایت ثقہ ہیں،ایسے ثقہ کی مرسل حدیث بلادغدغہ قبول ہے۔ (مرقات)یہ آیت و احادیث وسیلۂ اولیاء کے لیے اعلٰی درجہ کی دلیل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5247