Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5236

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ جَالِسٍ: "مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟ " فَقَالَ: رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِ النَّاسِ،هَذَا وَاللَّهِ حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ يُنْكَحَ وَإِنْ شَفَعَ أَنْ يُشَفَّعَ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-، ثُمَّ مَرَّ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "مَا رَأْيُكَ فِي هَذَا؟ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا رَجُلٌ مِنْ فُقَرَاءِ الْمُسْلِمِينَ، هَذَا حَرِيٌّ إِنْ خَطَبَ أَنْ لَا يُنْكَحَ، وإِنْ شَفَعَ أَنْ لَا يُشَفَّعَ، وَإِنْ قَالَ أَنْ لَا يُسْمَعَ لِقَوْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَذَا خَيْرٌ مِنْ مِلْءِ الأَرْضِ مِثْلَ هَذَا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ .

وعن سهل بن سعد قال: مر رجل على رسول الله -صلى الله عليه وسلم- فقال لرجل عنده جالس: "ما رأيك في هذا؟ " فقال: رجل من أشراف الناس،هذا والله حري إن خطب أن ينكح وإن شفع أن يشفع، قال: فسكت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-، ثم مر رجل، فقال له رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "ما رأيك في هذا؟ " فقال: يا رسول الله هذا رجل من فقراء المسلمين، هذا حري إن خطب أن لا ينكح، وإن شفع أن لا يشفع، وإن قال أن لا يسمع لقوله، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "هذا خير من ملء الأرض مثل هذا". متفق عليه .

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر گزرا تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا جو حضور کے پاس بیٹھا تھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ۱؎وہ بولا یہ شخص شریف لوگوں میں سے ہے ۲؎اکی قسم اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو نکاح کردیا جاوے اور اگر سفار ش کرے تو قبول کرلی جاوے۳؎راوی کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم خاموش رہے ۴؎پھر دوسرا آدمی گزرا تو اس سے رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے پوچھا کہ اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟۵؎وہ بولا یارسول الله یہ فقیروں مسلمانوں میں سے ہے،اس لائق ہے کہ اگر پیغام دے تو اس کا نکاح نہ کیا جاوے اور اگر سفارش کرے تو سفارش قبول نہ کی جاوے اور اگر بات کرے تو سنی نہ جاوے ۶؎تب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا یہ اس جیسے زمین بھر کے آدمی سے بہتر ہے ۷؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہ گزرنے والا بھی امیر تھا اور جس سے یہ سوال ہوا وہ بھی امیر ہی تھا یا امیر پرست دنیا دار ۔غالب یہ ہے کہ دونوں کافر یا منافق تھے ورنہ ایک صحابی سارے جہان کے غیر صحابی مسلمان سے افضل ہیں،تمام اولیاء اایک صحابی کی گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے۔
۲
؎شریف سے مراد مالدار ہے دنیا والے لوگ مال کو شرافت سمجھتے ہیں اور مالدار کو شریف جانتے ہیں خواہ وہ کیسا ہی بدتر ہو۔
۳
؎یعنی یہ شخص اپنی امیری کی وجہ سے لوگوں کی نگاہ میں عزت والا ہے کوئی اس کی بات ٹالے گا نہیں اگر رشتہ مانگے تو مل جائے گا،اگر کسی کی سفارش کرے گا تو قبول کرلی جائے گی،عوام اہل عرب اس کا بڑا احترام کرتے ہیں۔یہاں عوام کا ذکر ہے نہ کہ حضرات صحابہ کا،حضرات صحابہ کرام کے ہاں تقویٰ و پرہیزگاری سے عزت تھی ،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ
۴
؎حضور انور کی یہ خاموشی ناراضی کی تھی جیسا کہ کلام کی روشنی سے معلوم ہورہا ہے۔
۵
؎یہ گزرنے والے کوئی مسکین فقیر صحابی تھے جیسے حضرت بلال،صہیب،عمار بن یاسر وغیرہم رضی الله تعالٰی عنہم۔
۶
؎کیونکہ یہ شخص غریب و مسکین ہے غریب و مسکین کی بات دنیا دار نہیں سنتے۔نہ سننے سے مراد یہ ہی ہے کہ دنیا دار اس کی بات نہ سنیں اس کی فقیری کی وجہ سے ورنہ حضرات صحابہ کی بات تو الله تعالٰی اور اس کے رسول الله صلی الله علیہ وسلم اور قیامت تک کے سارے مسلمان سنتے ہیں،ان کی بتائی ہوئی باتوں پر ایمان کی بنیاد ہے،اسلام و قرآن سب ان ہی حضرات سے پھیلا۔
۷
؎یعنی جس کی تو نے تعریف کی اگر ایسے آدمیوں سے روئے زمین بھر جاوے تو ان سب سے یہ آخری اکیلا آدمی افضل و اعلٰی و اشرف ہے کہ یہ مؤمن متقی صحابی ہے۔اس فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ وہ پہلا آدمی کوئی امیر کافر تھا یا منافق تھا مؤمن صحابی نہ تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5236