باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5257
دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَن أبي عبد الرَّحْمَن الحُبُليِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ: أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؛ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الأَغْنِيَاءِ، قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، لَا نَفَقَةٍ وَلَا دَابَّةٍ وَلَا مَتَاعٍ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا"، قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
عن أبي عبد الرحمن الحبلي قال: سمعت عبد الله بن عمرو وسأله رجل قال: ألسنا من فقراء المهاجرين؛ فقال له عبد الله: ألك امرأة تأوي إليها؟ قال: نعم، قال: ألك مسكن تسكنه؟ قال: نعم، قال: فأنت من الأغنياء، قال: فإن لي خادما، قال: فأنت من الملوك. قال عبد الرحمن:وجاء ثلاثة نفر إلى عبد الله بن عمرو وأنا عنده فقالوا: يا أبا محمد إنا والله ما نقدر على شيء، لا نفقة ولا دابة ولا متاع، فقال لهم: ما شئتم؟ إن شئتم رجعتم إلينا فأعطيناكم ما يسر الله لكم، وإن شئتم ذكرنا أمركم للسلطان، وإن شئتم صبرتم، فإني سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا"، قالوا: فإنا نصبر لا نسأل شيئا. رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوعبدالرحمن حبلی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے حضرت عبدالله ابن عمرو کو سنا ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہم فقراء مہاجرین سے ۲؎نہیں ہیں تو اس سے عبدالله نے فرمایا کہ کیا تیری بیوی ہے جس کی طرف تو رجوع کرے وہ بولا ہاں،فرمایا کیا تیرے پاس گھر ہے جس میں تو رہے بولا ہاں، فرمایا تب تو تو امیروں میں سے ہے ۳؎وہ بولا کہ میرے پاس غلام بھی ہے فرمایا تو تو بادشاہوں سے ہے ۴؎عبدالرحمن کہتے ہیں ۵؎کہ تین شخص حضرت عبدالله ابن عمرو کے پاس آئے میں انکے پاس تھا ۶؎انہوں نے عرض کیا اے ابو محمد اﷲکی قسم ہم کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے نہ خرچہ پر نہ گھوڑے پر نہ اور سامان پر ۷؎تو آپ نے ان سے فرمایا تم جو چاہو ۸؎اگر چاہو تو ہمارے پاس پھر آنا ہم تم کو وہ دیں گے جو اﷲنے تمہارے لیے میسر فرمایا ۹؎اگر چاہو تو ہم تمہاری حالت کا ذکر بادشاہ سے کریں ۱۰؎اگر چاہو صبرکرو ۱۱؎کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے پہنچیں گے ۱۲؎تو وہ بولے کہ ہم صبرکریں گے کچھ نہ مانگیں گے ۱۳؎(مسلم)
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام عبدالله ابن زید ہے،تابعی ہیں،مصری ہیں،ابو ایوب انصاری،ابو ذر غفاری،عبداﷲابن عمرو ابن عاص رضی الله عنہم سے ملاقات ہے، افریقہ میں ۱۰۰ھ میں وفات پائی،بڑے متقی عالم زاہد تھے۔
۲؎یعنی جن فقراء کے متعلق حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ وہ امیروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں جائیں گے میں بھی ان فقراء سے ہوں اور جو بشارتیں حضور نے مہاجرین کےلیے دی ہیں میں بھی ان مہاجرین میں سے ہوں مجھ میں یہ دونوں وصف جمع ہیں۔
۳؎یعنی ان فقراء مہاجرین کے پاس نہ بیوی تھی نہ رہنے کا مکان اس فقرو فاقہ پر وہ قانع تھے تو تو ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے۔
۴؎رب تعالٰی فرماتاہے:"وَجَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا"اے اسرائیلیو تمہیں الله نے بادشاہ بنایا۔وہاںملوكکے معنی کیے گئے ہیں گھر بار اور نوکر خادم والا،بنی اسرائیلی رو سے اسے ملک کہتے تھے جس کے پاس بیوی گھر اور نوکر ہوتا تھا۔
۵؎کاتب نے عبدالرحمن لکھا،صحیح ہے ابو عبدالرحمن۔
۶؎ان آنے والوں کے نام معلوم نہ ہوسکے،غالبًا یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے اور یہ لوگ حضرت عبدالله ابن عمرو سے کچھ مانگنے آئے تھے۔
۷؎نفقۃسے مراد نقد رقم ہے درہم دینار،دابۃسے مراد جہاد کے لیے گھوڑا ہے اورمتاعسے مراد دوسرا سامان جسے فروخت کرکے گزارہ کرلیا جائے۔(مرقات)ان لوگوں نے اپنی فقیری تو بیان کردی صراحۃً سوال نہ کیا یہ بھی مانگنے کا ایک طریقہ ہے۔ مانگنے کے تین طریقے ہیں: صراحۃً مانگنا ہمیں یہ دے دو،اپنی فقیری بیان کرنا ،سامنے والے کی سخاوت بیان کرکے اس کے بال بچوں کو دعائیں دینا،آخری طریقہ بہت کامیاب ہے اس طرح کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے اس لیے درود شریف پڑھنا بہترین دعا ہے،اگر کوئی شخص ساری دعائیں چھوڑکر صرف درود شریف پڑھا کرےان شاءاﷲدعائیں مانگنے والوں سے زیادہ پائے گا۔
۸؎یعنی جو تم چاہو میں وہ ہی کروں۔ہوسکتا ہے کہماا ستفہامیہ ہو یعنی تم کیا چاہتے ہو بتاؤ،مرقات نے پہلے معنی کیے،اشعۃ اللمعات نے دوسرے معنی۔
۹؎یعنی ابھی تو ہمارے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ ہے نہیں پھر کسی اور وقت آناان شاءاﷲجو ممکن ہوگا ہم تم کو دیں گے حضرات صحابہ بہت سخی تھے۔
۱۰؎یہاں بادشاہ سے مراد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ہیں اس وقت آپ ہی بادشاہ تھے۔(اشعہ)آپ کی سخاوت اور امیری ضرب المثل بن چکی تھی، حضرات اہل بیت اطہار خصوصًا حضرت امام حسن رضی الله عنہ کو بیک وقت پانچ پانچ لاکھ دینار نذرانہ دیئے ہیں،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔مطلب یہ ہے کہ ہم تمہاری سفارش امیر معاویہ سے کردیں وہ تم کو بیت المال سے مالا مال کردیں یا تم کو کسی محکمہ میں ملازم رکھ لیں۔
۱۱؎اس طرح کہ نہ ہم سے مانگو نہ امیر معاویہ کے خزانہ سے کچھ لو،اپنی اس فقیری پر راضی رہو،اپنے ہاتھ کی کمائی سے گزارہ کرو۔ صبر یا توکل کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاوے غیبی دستر خوان کا انتظار کرتا رہے،رب تعالٰی نے ہاتھ پاؤں دیئے ہیں کمانے کے لیے ان سے مال اور اعمال دونوں کماؤ۔شعر
گر توکل مے کنی دو کارکن کسب کن بس تکیہ بر جبار کن
۱۲؎یہاں مالداروں سے مراد ہیں مہاجرین مالدار یعنی فقراء مہاجرین امراء مہاجرین سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے تو دوسرے امیروں سے تو بہت ہی پہلے جائیں گے۔(مرقات)غالبًا یہ لوگ کسی اور جگہ کے مہاجر تھے مکہ معظمہ سے ہجرت تو فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی تھی اور مہاجرین مکہ فاروقی و عثمانی خلافتوں میں مالا مال ہوچکے تھے یہ لوگ کسی اور کافر ملک کے مہاجر ہوں گے۔والله اعلم!۱۳؎یعنی ہم اب نہ تو آپ سے کچھ مانگیں گے نہ بادشاہ اسلام سے نہ کسی اور سے،ہم اس فرمان عالی پر عمل کرکے اپنے کمائے پر قناعت کریں گے تا قیامت حضور کے فرمان عالی میں اثر ہے ان فرمانوں کے اثر سے ہی آج ایمان،عرفان،شریعت و طریقت کا بقا ہے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5257