Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5257

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

عَن أبي عبد الرَّحْمَن الحُبُليِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو وَسَأَلَهُ رَجُلٌ قَالَ: أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ؛ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الأَغْنِيَاءِ، قَالَ: فَإِنَّ لِي خَادِمًا، قَالَ: فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ. قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالُوا: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، لَا نَفَقَةٍ وَلَا دَابَّةٍ وَلَا مَتَاعٍ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم- يَقُولُ: "إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا"، قَالُوا: فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

عن أبي عبد الرحمن الحبلي قال: سمعت عبد الله بن عمرو وسأله رجل قال: ألسنا من فقراء المهاجرين؛ فقال له عبد الله: ألك امرأة تأوي إليها؟ قال: نعم، قال: ألك مسكن تسكنه؟ قال: نعم، قال: فأنت من الأغنياء، قال: فإن لي خادما، قال: فأنت من الملوك. قال عبد الرحمن:وجاء ثلاثة نفر إلى عبد الله بن عمرو وأنا عنده فقالوا: يا أبا محمد إنا والله ما نقدر على شيء، لا نفقة ولا دابة ولا متاع، فقال لهم: ما شئتم؟ إن شئتم رجعتم إلينا فأعطيناكم ما يسر الله لكم، وإن شئتم ذكرنا أمركم للسلطان، وإن شئتم صبرتم، فإني سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يقول: "إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا"، قالوا: فإنا نصبر لا نسأل شيئا. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوعبدالرحمن حبلی سے ۱؎فرماتے ہیں میں نے حضرت عبدالله ابن عمرو کو سنا ان سے ایک شخص نے پوچھا کہ کیا ہم فقراء مہاجرین سے ۲؎نہیں ہیں تو اس سے عبدالله نے فرمایا کہ کیا تیری بیوی ہے جس کی طرف تو رجوع کرے وہ بولا ہاں،فرمایا کیا تیرے پاس گھر ہے جس میں تو رہے بولا ہاں، فرمایا تب تو تو امیروں میں سے ہے ۳؎وہ بولا کہ میرے پاس غلام بھی ہے فرمایا تو تو بادشاہوں سے ہے ۴؎عبدالرحمن کہتے ہیں ۵؎کہ تین شخص حضرت عبدالله ابن عمرو کے پاس آئے میں انکے پاس تھا ۶؎انہوں نے عرض کیا اے ابو محمد اکی قسم ہم کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے نہ خرچہ پر نہ گھوڑے پر نہ اور سامان پر ۷؎تو آپ نے ان سے فرمایا تم جو چاہو ۸؎اگر چاہو تو ہمارے پاس پھر آنا ہم تم کو وہ دیں گے جو انے تمہارے لیے میسر فرمایا ۹؎اگر چاہو تو ہم تمہاری حالت کا ذکر بادشاہ سے کریں ۱۰؎اگر چاہو صبرکرو ۱۱؎کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن مہاجر فقراء جنت میں امیروں سے چالیس سال پہلے پہنچیں گے ۱۲؎تو وہ بولے کہ ہم صبرکریں گے کچھ نہ مانگیں گے ۱۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عبدالله ابن زید ہے،تابعی ہیں،مصری ہیں،ابو ایوب انصاری،ابو ذر غفاری،عبداابن عمرو ابن عاص رضی الله عنہم سے ملاقات ہے، افریقہ میں ۱۰۰ھ؁ میں وفات پائی،بڑے متقی عالم زاہد تھے۔
۲
؎یعنی جن فقراء کے متعلق حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ وہ امیروں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں جائیں گے میں بھی ان فقراء سے ہوں اور جو بشارتیں حضور نے مہاجرین کےلیے دی ہیں میں بھی ان مہاجرین میں سے ہوں مجھ میں یہ دونوں وصف جمع ہیں۔
۳
؎یعنی ان فقراء مہاجرین کے پاس نہ بیوی تھی نہ رہنے کا مکان اس فقرو فاقہ پر وہ قانع تھے تو تو ان کے برابر کیسے ہوسکتا ہے۔
۴
؎رب تعالٰی فرماتاہے:"وَجَعَلَکُمۡ مُّلُوۡکًا"اے اسرائیلیو تمہیں الله نے بادشاہ بنایا۔وہاںملوكکے معنی کیے گئے ہیں گھر بار اور نوکر خادم والا،بنی اسرائیلی رو سے اسے ملک کہتے تھے جس کے پاس بیوی گھر اور نوکر ہوتا تھا۔
۵
؎کاتب نے عبدالرحمن لکھا،صحیح ہے ابو عبدالرحمن۔
۶
؎ان آنے والوں کے نام معلوم نہ ہوسکے،غالبًا یہ واقعہ مدینہ منورہ کا ہے اور یہ لوگ حضرت عبدالله ابن عمرو سے کچھ مانگنے آئے تھے۔
۷
؎نفقۃسے مراد نقد رقم ہے درہم دینار،دابۃسے مراد جہاد کے لیے گھوڑا ہے اورمتاعسے مراد دوسرا سامان جسے فروخت کرکے گزارہ کرلیا جائے۔(مرقات)ان لوگوں نے اپنی فقیری تو بیان کردی صراحۃً سوال نہ کیا یہ بھی مانگنے کا ایک طریقہ ہے۔ مانگنے کے تین طریقے ہیں: صراحۃً مانگنا ہمیں یہ دے دو،اپنی فقیری بیان کرنا ،سامنے والے کی سخاوت بیان کرکے اس کے بال بچوں کو دعائیں دینا،آخری طریقہ بہت کامیاب ہے اس طرح کچھ نہ کچھ ضرور مل جاتا ہے اس لیے درود شریف پڑھنا بہترین دعا ہے،اگر کوئی شخص ساری دعائیں چھوڑکر صرف درود شریف پڑھا کرےان شاءاﷲدعائیں مانگنے والوں سے زیادہ پائے گا۔
۸
؎یعنی جو تم چاہو میں وہ ہی کروں۔ہوسکتا ہے کہماا ستفہامیہ ہو یعنی تم کیا چاہتے ہو بتاؤ،مرقات نے پہلے معنی کیے،اشعۃ اللمعات نے دوسرے معنی۔
۹
؎یعنی ابھی تو ہمارے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ ہے نہیں پھر کسی اور وقت آناان شاءاﷲجو ممکن ہوگا ہم تم کو دیں گے حضرات صحابہ بہت سخی تھے۔
۱۰
؎یہاں بادشاہ سے مراد حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ ہیں اس وقت آپ ہی بادشاہ تھے۔(اشعہ)آپ کی سخاوت اور امیری ضرب المثل بن چکی تھی، حضرات اہل بیت اطہار خصوصًا حضرت امام حسن رضی الله عنہ کو بیک وقت پانچ پانچ لاکھ دینار نذرانہ دیئے ہیں،دیکھو ہماری کتاب امیر معاویہ۔مطلب یہ ہے کہ ہم تمہاری سفارش امیر معاویہ سے کردیں وہ تم کو بیت المال سے مالا مال کردیں یا تم کو کسی محکمہ میں ملازم رکھ لیں۔
۱۱
؎اس طرح کہ نہ ہم سے مانگو نہ امیر معاویہ کے خزانہ سے کچھ لو،اپنی اس فقیری پر راضی رہو،اپنے ہاتھ کی کمائی سے گزارہ کرو۔ صبر یا توکل کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاوے غیبی دستر خوان کا انتظار کرتا رہے،رب تعالٰی نے ہاتھ پاؤں دیئے ہیں کمانے کے لیے ان سے مال اور اعمال دونوں کماؤ۔شعر
گر توکل مے کنی دو کارکن کسب کن بس تکیہ بر جبار کن
۱۲
؎یہاں مالداروں سے مراد ہیں مہاجرین مالدار یعنی فقراء مہاجرین امراء مہاجرین سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے تو دوسرے امیروں سے تو بہت ہی پہلے جائیں گے۔(مرقات)غالبًا یہ لوگ کسی اور جگہ کے مہاجر تھے مکہ معظمہ سے ہجرت تو فتح مکہ کے بعد ختم ہوچکی تھی اور مہاجرین مکہ فاروقی و عثمانی خلافتوں میں مالا مال ہوچکے تھے یہ لوگ کسی اور کافر ملک کے مہاجر ہوں گے۔والله اعلم!۱۳؎یعنی ہم اب نہ تو آپ سے کچھ مانگیں گے نہ بادشاہ اسلام سے نہ کسی اور سے،ہم اس فرمان عالی پر عمل کرکے اپنے کمائے پر قناعت کریں گے تا قیامت حضور کے فرمان عالی میں اثر ہے ان فرمانوں کے اثر سے ہی آج ایمان،عرفان،شریعت و طریقت کا بقا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5257