Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5232

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: رَأَى سَعْدٌ أَنَّ لَهُ فَضْلًا عَلَى مَنْ دُونَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "هَلْ تُنْصَرُونَ وَتُرْزَقُونَ إِلَّا بِضُعَفَائِكُمْ؟ ". رَوَاهُ البُخَارِيُّ.

وعن مصعب بن سعد قال: رأى سعد أن له فضلا على من دونه، فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم؟ ". رواه البخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مصعب ابن سعد سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے سمجھا کہ ا نہیں اپنے سے نیچوں پر بزرگی ہے ۲؎تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے کمزوروں کی برکت سے ہی مدد کیے جاتے ہو اور روزی دیئے جاتے ہو ۳؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مصعب ابن سعد ابن ابی وقاص ہیں،تابعی ہیں،اپنے والد اور حضرت علی ،ابن عمر ،طلحہ سے ملاقات ہے رضی الله تعالٰی عنہم، ۱۰۳ھ؁ ایک سو تین میں وفات ہوئی۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎حضرت سعد ابن ابی وقاص مالدار بھی تھے ا ور بڑے سخی بہادر بھی،ایک بار ان کے دل میں خیال آیا کہ میں فلاں فقیر مہاجر صحابی سے افضل ہوں آپ نے منہ سے کچھ نہ کہا تھا تب حضور انور نے یہ فرمایا الله تعالٰی نے حضور کو دلوں کے خطرات پر مطلع فرمایا ہے آپ کا یہ خیال بطور شکر ہوگا نہ کہ بطور فخر مگر چونکہ یہ تصور کہ میں بہادری اور سخاوت میں فلاں سے افضل ہوں آپ کی شان کے لائق نہ تھا اس لیے یہ ارشاد ہوا۔
۳
؎یعنی اے سعد تمہاری سخاوت تو دولت سے ہے اور شجاعت طاقت و قوت سے مگر دولت،قوت،فتح فقراء کی برکت سے وہ تم حضرات کے لیے وسیلہ عظمٰی ہیں اس سے توسل ثابت ہوا۔یہاں مرقات میں فرمایاکہ فقراء مسلمین بندوں کے لیے قطب اور اوطار ہیں جیسے خیمہ میخوں اور قطب چوب سے قائم ہے ایسے ہی دنیا ان لوگوں سے قائم ہے۔فقراء کی برکت سے بندوں کو رزق ملتا ہے،ان کے طفیل بارشیں ہوتی ہیں،غرضیکہ الله تعالٰی کی نعمتیں ملنے کا ذریعہ یہ لوگ ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5232