Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5249

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَسَنَتُهُ، وَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَةَ"رَوَاهُ فِي "شَرْحِ السُّنَّةِ".

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "الدنيا سجن المؤمن وسنته، وإذا فارق الدنيا فارق السجن والسنة"رواه في "شرح السنة".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ دنیا مؤمن کا جیل خانہ اور اس کی قحط سالی ہے ۱؎جب مؤمن دنیا چھوڑ تا ہے تو جیل اور قحط سے نکل جاتا ہے ۲؎(شرح سنہ)

شرح حدیث

۱∞؎جیسے جیل خانہ میں قیدی کا دل نہیں لگتا اگرچہ وہاں کتنا ہی آرام ہو خواہ اے کلاس کی جیل ہو یا سی کلاس کی،اسی طرح مؤمن دنیا میں دل نہیں لگاتا اگرچہ اسے بڑا ہی آرام ہو لہذا حدیث سے یہ لازم نہیں کہ مسلمان کو دنیا میں تکلیف ہی ہے تکلیف اور چیز ہے دل نہ لگنا کچھ اور چیز،جیسے قحط سالی میں انسانوں کو ذلت قلت تکلیف ہوتی ہے ایسے ہی مسلمان کو دنیا میں کوئی نہ کوئی تکلیف رہتی ہی ہے یہ آزمودہ چیز ہے بلکہ تکالیف ناکامیاں ہی انسان کو انسان بنا کر رکھتی ہیں،عیش میں غفلت ہوتی ہے تکلیف میں بیداری۔
۲
؎خیال رہے کہ مؤمن کو آخرت میں اس قدر آرام و راحتیں ہیں کہ ان کے مقابل دنیا کی بادشاہت بھی جیل ہے اور کافر کو آخرت میں ایسی مصیبتیں ہوں گی کہ ان کے مقابل دنیا کی سخت سے سخت تکلیف بھی گویا جنت ہوگی،مؤمن مر کر دنیاوی جنجال سے چھوٹتا ہے کافر مر کر جنجال میں پھنستا ہے، موت ایک ریل ہے جو مؤمن کو عیش خانہ اور کافر کو جیل خانہ تک پہنچاتی ہے جیسے ایک ہی ریل میں کسی کی برات جارہی ہے کسی کو پھانسی کے لیے لے جایا جارہا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5249