Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5235

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: "إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "إن فقراء المهاجرين يسبقون الأغنياء يوم القيامة إلى الجنة بأربعين خريفا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ فقراء مہاجرین ۱؎قیامت کے دن مالداروں سے چالیس۴۰ سال پہلے جنت میں جائیں گے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ سارے مہاجرین فقراء بغیر حساب و عذاب جنتی ہیں اس لیے یہاں مہاجرین کی قید ارشاد ہوئی۔یہاں مہاجرین سے مراد صحابہ مہاجرین ہیں، رہے دوسرے فقراء تا قیامت ان میں کوئی دوزخی ہے کوئی جنتی اور جنتی بھی بعض اول سے جنت میں جاویں گے بعض سزا پا کر جیسے مجرم و گنہگار فقیر۔
۲
؎اگر مالداروں سے مراد مالدار صحابہ ہیں تو اس کا مطلب ابھی بیان کردیا گیا کہ جن مالداروں کا حساب ہوگا ان سے پہلے فقراء جائیں گے،جنکا حساب نہیں وہ اس میں داخل نہیں اور عام مالدار مراد ہیں تو حدیث بالکل واضح ہے۔خیال رہے کہ یہ فقراء بعض امیروں سے چالیس سال پہلے اور بعض امیروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے لہذا یہ حدیث پانچ سو برس والی حدیث کے خلاف نہیں۔خریف موسم خزاں کو کہتے ہیں جیسے ربیع موسم بہار کو کہا جاتا ہے۔خریف بول کر پورا سال مراد لیا جاتا ہے جیسے گردن بول کر پورا جسم مراد لیتے ہیں یعنی جز کے لفظ سے،نام سے کل کو تعبیر کرتے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5235