Main Icon

باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5237

دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان - جلد 7

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا شَبعَ آلُ مُحَمَّدٍ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عائشة قالت: ما شبع آل محمد من خبز الشعير يومين متتابعين حتى قبض رسول الله -صلى الله عليه وسلم-. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آل مسلسل دو دن جوکی روٹی سے سیر نہ ہوئے ۱؎حتی کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۲؎(مسلم،
بخا ری)

شرح حدیث

۱∞؎بلکہ ایک دن روٹی ایک دن صرف کھجوریں،پانی یا فاقہ ہوتا تھا،حضور کا یہ فقر وفاقہ اختیاری تھا اگر چاہتے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کے پاس سونے کے پہاڑ ہوتے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے اس فقر و فاقہ کو اختیار فرمانے میں تا قیامت فقراء کو تسلی دینا مقصود تھی۔
۲
؎خیال رہے کہ فتح خیبر کے بعد حضور انور ہر زوجہ پاک کو ایک سال کی کھجوریں عطا فرمادیتے تھے کیونکہ خیبر میں باغات کثرت سے ہیں وہاں سے حضور کے حصے کی کھجوریں بہت آتی تھیں۔یہاں مسلسل دو دن تک روٹی سے سیر ہونے کی نفی ہے لہذا یہ حدیث اس واقعہ کے خلاف نہیں کہ وہاں کھجوروں کی عطا ثابت ہے،نیز حضور کے گھر والے ایک دن خود کھاتے تھے دوسرے دن کا کھانا فقراء مسکین کو دیتے تھے۔بہرحال یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں حضور انور پر آخر زمانہ میں دولت کی بارش ہوگئی تھی مگر سب لوگوں پر تقسیم فرمادیتے تھے ان فتوحات سے پہلے طریقہ مبارکہ یہ تھا۔شعر
اور کبھی تھوڑی کھجوریں کھانا پانی پی کر پھر رہ جانا دو دو مہینے یوں ہی گزارا صلی الله علیہ وسلم

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 7 , حدیث نمبر: 5237